بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ریڈیو فریکوئنسی توانائی سے وائرلیس سینسرز چلانے کی نئی ٹیکنالوجی

انجینئرز نے ریڈیو فریکوئنسی توانائی حاصل کرکے وائرلیس سینسرز چلانے کی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام شروع کردیا ہے، جس سے کم توانائی کے باوجود سینسرز کو طویل عرصے تک فعال رکھا جاسکتا ہے۔

امریکی بحریہ نے پرانے ہوتے ہوئے طیاروں کے پروں کی حالت پر نظر رکھنے کے لیے ان کے اندر وائرلیس سینسرز نصب کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ یونیورسٹی آف کولوراڈو، بولڈر میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی پروفیسر زویا پوپووچ کے مطابق ان سینسرز کو انرجی ہارویسٹنگ سرکٹس سے منسلک کیا گیا ہے، جو وقتاً فوقتاً طیارے کے پروں کو نقصان دہ دباؤ اور کھنچاؤ کے حوالے سے چیک کرتے ہیں۔

سینسرز کو ری چارج یا فعال کرنے کے لیے ایک ٹیکنیشن تقریباً ایک میٹر کے فاصلے پر ٹرانسمیٹر رکھتا ہے، جس کے ذریعے کم توانائی کا برقی فیلڈ پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ برقی فیلڈ سینسرز کے انرجی ہارویسٹنگ سرکٹس کی حد میں ہوتا ہے اور انہیں فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

انجینئرز نے اس مسئلے کے حل کے لیے کئی دہائیوں پرانے ایک تصور، یعنی ریڈیو فریکوئنسی انرجی ہارویسٹنگ پر دوبارہ توجہ مرکوز کی ہے۔ اس طریقے میں خاص مقصد کے لیے نصب کیے گئے ٹرانسمیٹرز کے علاوہ ماحول میں پہلے سے موجود ریڈیو فریکوئنسی توانائی بھی استعمال کی جاسکتی ہے، جو سیل فون ٹاورز اور ٹیلی ویژن اسٹیشنوں سے خارج ہوتی ہے۔

ایک وقت میں اس تصور کو غیر اہم اور ناقابلِ عمل سمجھا جاتا تھا کیونکہ برقی مقناطیسی لہریں اپنے ماخذ سے دور ہوتے ہی تیزی سے کمزور ہوجاتی ہیں۔ تاہم اگر مائیکرو واٹس جتنی معمولی توانائی بھی کسی بیٹری یا سپر کپیسیٹر میں مسلسل تھوڑی تھوڑی جمع ہوتی رہے تو یہ بعض سینسرز کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک چلانے کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔

وائرلیس 01

انتہائی کم توانائی استعمال کرنے والے مائیکرو پروسیسرز، توانائی ذخیرہ کرنے والے نسبتاً سستے سپر کپیسیٹرز اور توانائی کی بچت کے لیے سینسرز کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے انرجی ہارویسٹنگ آلات کی نئی نسل کو ممکن بنایا ہے۔

عام طور پر وائرلیس سینسرز کو وائرڈ سینسرز کے مقابلے میں ماحول کی نگرانی کے لیے زیادہ لچکدار انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کا استعمال میدانوں میں مویشیوں کی نگرانی، زلزلے سے قبل وارننگ اور پلوں کی ساخت اور مضبوطی کا جائزہ لینے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔

تاہم ان سینسرز کے لیے توانائی کا مستقل ذریعہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ صرف بیٹری استعمال کرنے کی صورت میں اس کی عمر محدود ہوتی ہے، جبکہ شمسی توانائی حاصل کرنے والے سولر سیلز ہر جگہ مؤثر نہیں ہوسکتے۔ مثال کے طور پر طیارے کے پروں کے اندر نصب سینسرز روشنی سے توانائی حاصل نہیں کرسکتے۔

وائرلیس پاور حاصل کرنے کی یہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر ریڈیو فریکوئنسی آئڈنٹیفیکیشن (RFID) پر مبنی ہے۔ ایک ٹرانسمیٹر ریڈیو فریکوئنسی توانائی کا سگنل بھیجتا ہے، جو چپ تک معلومات پہنچانے کے ساتھ اسے چارج کرنے کے لیے ڈی سی بجلی میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

ایک اینٹینا اور مائیکرو چپ پر مشتمل ٹیگ ٹرانسمیٹر کو جواب دیتے ہوئے اس چیز سے متعلق معلومات واپس بھیجتا ہے جس کے ساتھ وہ منسلک ہوتا ہے۔

سادہ RFID ٹیگز کو زیادہ جدید اور نگرانی کرنے والے آلات میں تبدیل کرنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، اس لیے ریڈیو فریکوئنسی توانائی کو حاصل کرکے ذخیرہ کرنے یا مسلسل منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک RFID ٹیکنالوجی کمپنی کے مطابق بعض فوڈ کمپنیوں نے اپنے ڈیلیوری ٹرکس کی زیادہ باریک نگرانی شروع کردی ہے۔ ٹرانسمیٹر سے لیس ٹرک ان RFID پر مبنی سینسرز کو ری چارج کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے ڈیٹا بھی حاصل کرسکتا ہے۔

یہ سینسرز ٹرک کے اندر درجہ حرارت کو وقتاً فوقتاً چیک کرسکتے ہیں یا چوری سے بچاؤ کے لیے نگرانی کرسکتے ہیں۔ جب سینسرز اپنے ماحول میں کسی تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ٹیگز یہ معلومات واپس ٹرانسمیٹر کو بھیج دیتے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت وہ فاصلہ ہے جس پر یہ ٹیگز ڈیٹا منتقل کرسکتے ہیں۔ بجلی کی کمپنیاں بجلی کی لائنوں کے ساتھ سینسرز نصب کرکے ہر سینسر کو الگ الگ چیک کیے بغیر ان سے ڈیٹا حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

ہینڈرکس وائر اینڈ کیبل انک کے ٹیکنالوجی ڈائریکٹر نارمن ڈی میک کلاؤ جونیئر کے مطابق ان کے دور دراز علاقوں میں نصب انرجی ہارویسٹنگ سینسرز اس وقت 100 میٹر کے فاصلے سے ڈیٹا منتقل کرسکتے ہیں اور جلد ہی ایک کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ٹرانسمیٹر کو معلومات واپس بھیجنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

وائرلیس 03

میک کلاؤ ایسی چپ استعمال کررہے ہیں جو کم توانائی والے سگنلز کو حاصل کرسکتی ہے اور بہتر پاور ایمپلی فائرنگ سرکٹ کی مدد سے زیادہ فاصلے پر ڈیٹا واپس بھیجنے کے لیے زیادہ طاقت پر کام کرسکتی ہے۔

سینسرز کی زیادہ لچکدار تنصیب سے ان کے استعمال کے نئے راستے بھی کھل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دفتر کی عمارتوں میں تھرموسٹیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے انرجی ہارویسٹنگ سینسرز کا استعمال توانائی کی بچت اور کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف پٹسبرگ میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے پروفیسر مارلن میکل نے یہ جانچنے کے لیے کہ آیا دفتر کی عمارت میں سینسرز کو ماحولیاتی ریڈیو لہروں سے توانائی فراہم کی جاسکتی ہے، اپنے شہر میں ریڈیو اسٹیشنوں سے خارج ہونے والی ریڈی ایٹڈ پاور کا نقشہ تیار کیا۔

مارلن میکل کے مطابق ماحولیاتی توانائی کے معاملے میں اس کا ماخذ انسان کے کنٹرول میں نہیں ہوتا، تاہم یہ توانائی ماحول میں موجود ہوتی ہے اور اسے کام میں لایا جاسکتا ہے۔

اس کے باوجود ریڈیو فریکوئنسی توانائی کے استعمال میں ایک بنیادی مسئلہ اب بھی موجود ہے کہ اس کا قابلِ اعتماد اور مسلسل ذریعہ ہر وقت دستیاب نہیں ہوتا۔

اسی وجہ سے انجینئرز ریڈیو فریکوئنسی ہارویسٹنگ اور مائیکرو پروسیسرز کے ساتھ سولر سیلز کو جوڑنے کے علاوہ دیگر طریقوں پر بھی کام کررہے ہیں۔ ان طریقوں میں درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں یا مکینیکل حرکات، مثلاً وائبریشنز یا لائٹ سوئچ کے آن اور آف ہونے سے پیدا ہونے والی حرکت کو برقی توانائی میں تبدیل کرنا شامل ہے۔

جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اٹلانٹا میں الیکٹرو میگنیٹکس کے اسسٹنٹ پروفیسر گریگ درگن کے مطابق اس مسئلے کا حل بالآخر زیادہ پیچیدہ اور متعدد ذرائع پر مشتمل ہوسکتا ہے۔

گریگ درگن کا کہنا ہے کہ ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہائبرڈ پاور سپلائیز ہے، جس میں توانائی حاصل کرنے کی دو تکنیکوں کو ایک ہی سینسر میں یکجا کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی سینسر میں توانائی حاصل کرنے کے دو طریقوں کو یکجا کرنا بالآخر ان آلات کو مکمل طور پر خود مختار اور آزاد بنا سکتا ہے۔