دماغی ٹیومر کی 120 سے زائد اقسام ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر ٹیومر کینسر نہیں ہوتا، تاہم دماغ کے حساس حصوں میں بننے والا غیر کینسر شدہ ٹیومر بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
دماغی ٹیومر دراصل دماغ میں غیر معمولی خلیات کی غیر قدرتی افزائش کو کہا جاتا ہے۔ انسانی دماغ انتہائی پیچیدہ ساخت رکھتا ہے اور اس کے مختلف حصے اعصابی نظام کے الگ الگ افعال انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دماغ میں بننے والا ٹیومر اس کی جگہ، حجم اور بڑھنے کی رفتار کے لحاظ سے مختلف اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
دماغ یا کھوپڑی کے مختلف حصوں میں ٹیومر بن سکتا ہے، جن میں دماغ کی حفاظتی جھلی، کھوپڑی کا نچلا حصہ، دماغی تلی اور دماغ کے دیگر حصے شامل ہیں۔
امریکا میں ہر ایک لاکھ بالغ افراد میں سے تقریباً 30 افراد دماغ اور اعصابی نظام کے ٹیومر سے متاثر ہوتے ہیں۔ دماغی ٹیومر خطرناک اس لیے ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ دماغ کے صحت مند حصوں پر دباؤ ڈالتے ہیں یا ان میں پھیل جاتے ہیں۔
بعض ٹیومر کینسر شدہ ہوتے ہیں جبکہ کچھ ٹیومر وقت کے ساتھ کینسر میں تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر ٹیومر دماغ کے گرد موجود مائع کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرے تو کھوپڑی کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو خطرناک صورتحال کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دماغی ٹیومر اور دماغی لیژن ایک ہی چیز نہیں۔ ٹیومر دراصل لیژن کی ایک مخصوص قسم ہے۔ تمام ٹیومرز کو لیژن کہا جاسکتا ہے، تاہم ہر لیژن ٹیومر نہیں ہوتا۔ فالج، دماغی چوٹ اور مختلف انفیکشنز بھی دماغی لیژن کا سبب بن سکتے ہیں۔
دماغی ٹیومر کو بنیادی طور پر غیر کینسر شدہ اور کینسر شدہ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بینائن یعنی غیر کینسر شدہ ٹیومر عموماً سست رفتاری سے بڑھتے ہیں اور شاذ و نادر ہی جسم کے دوسرے حصوں میں پھیلتے ہیں، تاہم اگر یہ دماغ کے کسی اہم حصے میں موجود ہوں تو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔
میننجیوما اور پٹیوٹری ایڈینوما غیر کینسر شدہ ٹیومرز کی مثالیں ہیں۔
دوسری جانب میلگننٹ یعنی کینسر شدہ ٹیومر تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، اردگرد موجود صحت مند خلیات پر حملہ کرتے ہیں اور جان لیوا ہوسکتے ہیں۔ میڈلوبلاسٹوما اور کونڈروسارکوما کینسر شدہ ٹیومرز کی مثالیں ہیں۔
دماغی ٹیومرز کو اس بات کی بنیاد پر بھی تقسیم کیا جاتا ہے کہ وہ کہاں سے شروع ہوئے۔ پرائمری ٹیومربراہِ راست دماغ کے اندر سے شروع ہوتے ہیں۔ میننجیوما اور گلیوما اس کی مثالیں ہیں۔
اس کے برعکس میٹاسٹیٹک یا سیکنڈری ٹیومر جسم کے کسی دوسرے حصے میں شروع ہونے والے کینسر کے دماغ تک پھیلنے کے نتیجے میں بنتے ہیں۔ پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر سمیت جسم کے دیگر حصوں کا کینسر بعد میں دماغ تک پھیل سکتا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق میٹاسٹیٹک ٹیومر، پرائمری ٹیومرز کے مقابلے میں چار گنا زیادہ عام ہوتے ہیں۔
بچوں اور نوجوانوں میں بھی دماغی ٹیومر ایک اہم بیماری ہے۔ امریکا میں ہر سال تقریباً 5 ہزار بچے دماغی ٹیومر سے متاثر ہوتے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں میں یہ سب سے عام سولڈ ٹیومر قرار دیا گیا ہے۔
دماغی ٹیومر کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں۔ ان میں شدید اور مسلسل سر درد، دورے پڑنا یا جسم میں جھٹکے لگنا، بولنے، سوچنے یا الفاظ تلاش کرنے میں دشواری، شخصیت یا رویے میں تبدیلی، جسم کے کسی ایک حصے کا سن ہونا، کمزوری یا فالج شامل ہیں۔
اس کے علاوہ توازن بگڑنا، چکر آنا، بینائی یا سماعت میں کمی، یادداشت کی خرابی اور الجھن بھی دماغی ٹیومر کی ممکنہ علامات میں شامل ہیں۔
تاہم بعض اوقات دماغی ٹیومر بغیر کسی واضح علامت کے بھی بڑھ سکتا ہے۔ میننجیوما اس کی ایک مثال ہے۔
دماغی ٹیومر کی حتمی وجہ ہمیشہ معلوم نہیں ہوتی۔ تاہم جسم کے کسی دوسرے حصے سے کینسر کا دماغ تک پھیلنا، موروثی یا جینیاتی نقائص اور مخصوص قسم کی شعاعوں کا سامنا اس سے منسلک عوامل میں شامل ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق 5 فیصد سے بھی کم کیسز میں موروثی یا جینیاتی نقائص کو ایک ممکنہ سبب قرار دیا گیا ہے۔
دماغی ٹیومر کی تشخیص کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے نیورولوجیکل معائنہ کیا جاسکتا ہے، جس میں توازن، بینائی اور دماغ کے دیگر افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور اینجیوگرام جیسے امیجنگ ٹیسٹ بھی تشخیص میں مدد دیتے ہیں۔ ٹیومر کی نوعیت اور شدت جاننے کے لیے بائیوپسی بھی کی جاسکتی ہے، جس میں ٹیومر کے ایک حصے کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔
ٹیومرز کو ان کی شدت اور بڑھنے کی رفتار کے مطابق مختلف گریڈز میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ گریڈ ون کے ٹیومر عموماً غیر کینسر شدہ اور انتہائی سست رفتار ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں آپریشن کے ذریعے مکمل طور پر نکالے جاسکتے ہیں۔
گریڈ ٹو کے ٹیومر نسبتاً سست رفتاری سے بڑھتے ہیں، تاہم ان کے دوبارہ ظاہر ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
گریڈ تھری کے ٹیومر کینسر شدہ ہوتے ہیں اور تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، جبکہ گریڈ فور سب سے زیادہ خطرناک گریڈ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ٹیومر انتہائی تیزی سے بڑھ سکتے ہیں اور دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔
دماغی ٹیومر کے علاج کا طریقہ ٹیومر کی نوعیت اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ علاج میں سرجری، ریڈی ایشن تھراپی اور کیمیوتھراپی شامل ہیں۔
سرجری کے ذریعے ٹیومر کو جسمانی طور پر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے لیے کرینیوٹومی جیسے طریقۂ کار استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
ریڈی ایشن تھراپی میں شعاعوں کے ذریعے ٹیومر کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ کیمیوتھراپی میں ادویات کے ذریعے کینسر کے خلیات کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یوں دماغی ٹیومر کی متعدد اقسام، مختلف علامات اور مختلف شدت ہوتی ہے، اس لیے اس کی تشخیص میں نیورولوجیکل معائنہ، امیجنگ ٹیسٹ اور ضرورت پڑنے پر بائیوپسی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ علاج کا طریقہ ٹیومر کی نوعیت کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔









