بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایشیا کپ کی دونوں ٹرافیاں ممبئی ضرور پہنچیں گی، دیوا جیت سائیکیا، پاکستان میں موجود ہیں کہیں نہیں جا رہی،پاکستانی ذرائع

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا کے بیان کے بعد کہ ایشیا کپ کی دونوں ٹرافیاں ایک دن ممبئی ضرور پہنچیں گی، ذرائع نے واضح کیا ہے کہ مینز اور ویمنز دونوں ٹرافیاں اس وقت پاکستان میں موجود ہیں اور کہیں نہیں جا رہیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا کا ایشیا کپ ٹرافیوں سے متعلق بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ دونوں ٹرافیاں ایک دن ممبئی میں بی سی سی آئی کے ہیڈکوارٹر ضرور پہنچیں گی، تاہم وہ ٹرافیوں کی واپسی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویمنز فائنل سے قبل بھی بورڈ نے اے سی سی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا تھا کہ موجودہ حالات میں بھارتی ٹیم ٹرافی کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گی، جو کہ بی سی سی آئی کا ایک ادارہ جاتی فیصلہ تھا۔

دوسری جانب بی سی سی آئی کی جانب سے ایشیا کپ کی مینز اینڈ ویمنز کی ٹرافیاں جلد حاصل کرنے کی امید دم توڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایشیا کپ کی دونوں ٹرافیاں پاکستان میں موجود ہیں اور کہیں نہیں جا رہی ہیں۔ ٹرافیاں حاصل کرنے کے لیے بھارت کو باقاعدہ رضامندی ظاہر کرنا ہوگی جبکہ دونوں ٹرافیاں اے سی سی کے صدر محسن نقوی ہی دیں گے۔

ایشیا کپ ٹرافی کا تنازع نیا نہیں ہے؛ گزشتہ برس بھی بھارتی مینز ٹیم نے ایشیا کپ جیتنے کے بعد اے سی سی صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی۔ 2025 کے ایشیا کپ فائنل کے بعد بھارتی ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کرنے پر محسن نقوی ٹرافی اور فاتح ٹیم کے میڈلز اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر بی سی سی آئی سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے ٹرافی اور میڈلز بھارت کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بی سی سی آئی نے اس وقت مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بورڈ اس معاملے کو اے سی سی اور دیگر متعلقہ فورمز پر اٹھائے گا۔

اس سال رواں ماہ ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں بھی یہی صورتحال دہرائی گئی۔ بھارت نے سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا تاہم بھارتی ٹیم نے محسن نقوی کی موجودگی میں ٹرافی وصول کرنے کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ سری لنکن ٹیم نے رنر اپ میڈلز اور چیک وصول کیا جبکہ بھارتی کھلاڑی ٹرافی اور اپنے میڈلز لینے کے لیے اسٹیج پر نہیں آئیں۔