اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اپنے سرمایہ کاروں کو خبردار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسانیت کے لیے تباہ کن خطرات کا باعث بنتے ہوئے اس کا وجود تک مٹا سکتی ہے۔
عام طور پر اسٹاک مارکیٹ میں آنے والی کمپنیاں سرمایہ کاروں کو اپنی مصنوعات اور کاروبار سے متعلق ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتی ہیں، تاہم بہت کم کمپنیوں نے یہ انتباہ دیا ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر ساری انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
قبل ازیں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس بھی خبردار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال اور بے قابو ہونا ایک ارب انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اینتھروپک کمپنی نے شیئرز خریدنے کے لیے سرمایہ کاروں کے لیے جاری آئی پی او پراسپیکٹس میں اے آئی ماڈلز سے وابستہ خطرات کی تفصیل دی ہے۔
اینتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماڈلز ’خود کو محفوظ رکھنے‘ کی کوشش کر سکتے ہیں، جن میں شٹ ڈاؤن کیے جانے پر مزاحمت، معلومات چھپانے یا ان میں ردوبدل اور ’بلیک میلنگ سے مشابہ‘ رویہ شامل ہے۔
کمپنی نے پراسپیکٹس میں کہا کہ انتہائی جدید ماڈلز، پلیٹ فارمز اور ایپلی کیشنز کی تیاری اور ان کے استعمال کے دائرے میں توسیع سے ان ماڈلز کے نقصان کا باعث بننے کے خدشے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اینتھروپک نے ایک طرف اے آئی کو صنعتی انقلاب اور بجلی کی طرح دنیا کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب خبردار کیا ہے کہ غلط طریقے سے استعمال کیے جانے کی صورت میں اس کے نقصانات ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔
اے آئی کمپنیوں، جن میں اوپن اے آئی بھی شامل ہے، کو ایسے واقعات کے بعد جانچ پڑتال کا سامنا ہے جن میں تجرباتی اے آئی سسٹمز نے مقررہ حدود کی خلاف ورزی کی۔ ان میں اوپن اے آئی کے ایک ماڈل کے آسٹریلیا کے صحت کے نظام کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرنے کی رپورٹ بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں:سکیورٹی خدشات، پنجاب میں کھلی جگہوں پر ڈرون اڑانے پر 30 روزہ پابندی عائد
اینتھروپک کے سیفٹی ریسرچر ایون ہیوبرنگر نے اندازہ لگایا ہے کہ آئندہ ایک دہائی کے دوران اے آئی کے انسانوں کی ہلاکت کا سبب بننے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ اندازہ ان کے سابق ساتھی جیکب کوکسن کے خدشات سے بھی مماثلت رکھتا ہے۔









