واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس ایسی قیادت موجودہی نہیں،انہوں نے ریاست الاباما کے ساحلی شہر موبائل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران میں آخر کس سے مذاکرات کرے؟ ایران میں ایسا کوئی شخص موجود نہیں جس کے ساتھ معاملات طے کیے جا سکیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور طیارہ شکن دفاعی نظام تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 310 فیصد افراط زر کے باعث ایرانی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی کو فولادی دیوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ اور امریکا جلد ہی اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں دوبارہ تیل ذخیرہ کرنا شروع کر دے گا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے دوران یا ان کے فوراً بعد ختم ہو سکتا ہے۔ دو روز قبل بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اچھی حالت میں نہیں اور جنگ زیادہ طویل عرصے تک جاری نہیں رہے گی۔
مزید پڑھیں:حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کے اشارے دییے جاتے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ایران کی تازہ امن تجویز کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔









