پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کی جانب سے خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع سے شروع کیا جانے والا لانگ مارچ اپنی پہلی منزل مکمل کرنے کے بعد اب آئندہ کے مراحل کی جانب گامزن ہے۔
اتوار کے روز ضلع لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے شام کے وقت شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ تقریباً 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے رات گئے اپنے پہلے پڑاؤ ضلع کرک پہنچا تھا۔
اس مارچ کے ابتدائی مرحلے میں بنوں، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک اور دیگر قریبی اضلاع سے لوگ شامل ہوئے تھے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی انفرادی طور پر اور ژوب کے راستے بلوچستان سے آنے والے قافلے یارک کے مقام پر رکاوٹیں عبور کر کے مارچ کا حصہ بنے۔
تاہم سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آنے والا قافلہ وقت پر نہیں پہنچ سکا تھا۔
ضلع کرک میں قائم جیل چوک پر ایک بڑا پنڈال بنایا گیا تھا جہاں رات بھر مظاہرین موجود رہے۔
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں آنے والے اس لانگ مارچ کی کرک سے اگلی روانگی کا وقت تو دوپہر بارہ بجے کا بتایا گیا تھا، تاہم حتمی روانگی کا وقت غیر یقینی ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے، مسائل کا حل نکل آئے گا، شوکت یوسفزئی
سیکیورٹی اور انتظامی تدابیر کے تحت کرک اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل رکھی گئی ہیں۔
صوبائی وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر تحریر کیا ہے کہ پانچ اکتوبر یعنی آج یہ قافلہ رات کے وقت کوہاٹ کے قریب لاچی گراؤنڈ میں اپنا پڑاؤ ڈالے گا۔
پی ٹی آئی کے شیڈول کے مطابق چھ اکتوبر بروز منگل کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد مارچ پشاور کی جانب بڑھے گا اور پشاور شہر سے 30 کلومیٹر دور متنی کے مقام پر رات گزارے گا۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ’ایکس‘ پر اس لانگ مارچ کا تفصیلی روڈ میپ شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سات اکتوبر کو بڈھ بیر کے مقام سے ضلع خیبر اور پشاور کے مختلف حلقوں کے لوگ کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ان کا استقبال کریں گے اور یہ قافلہ چارسدہ انٹرچینج پر رات گزارے گا۔
اس کے بعد آٹھ اکتوبر کو چارسدہ اور مہمند کے لوگ بھی ساتھ ملیں گے اور پورے خیبرپختونخوا کے تمام قافلے خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہوں گے، جہاں رات کے قیام کے بعد حکومت اور انتظامی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے آئندہ کا حتمی اور آئندہ لائحہ عمل جاری کیا جائے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے اٹک اور ٹیکسلا میں بڑی تعداد میں کنٹینرز سڑک کنارے موجود ہیں، راستے بلاک کرنے کے لیے مٹی اور پتھروں سے بھرے تھیلے بھی اکٹھے کر لیے گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے بھی کڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔









