اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کریں گے۔
انتونیو گوتریس آخری مرتبہ 2022 میں پاکستان آئے تھے، جب انہوں نے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ موجودہ دورے کے دوران وہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بھی دورہ کریں گے، جہاں سیلاب کے بعد آفات سے نمٹنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) کے ہیڈکوارٹرز بھی جائیں گے۔ یو این ایم او جی آئی پی بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا مشن ہے۔
دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سفارتی اور ثالثی کوششوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی حمایت میں پاکستان کے تعمیری کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انتونیو گوتریس کے جمعرات کو نیویارک واپس پہنچنے کی توقع ہے۔
انتونیو گوتریس 1949 میں پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں پیدا ہوئے اور Instituto Superior Técnico سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پرتگالی، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانیں بولتے ہیں۔
گوتریس اقوام متحدہ کے نویں سیکریٹری جنرل ہیں اور یکم جنوری 2017 کو اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ اس سے قبل وہ جون 2005 سے دسمبر 2015 تک اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین رہے۔
اقوام متحدہ میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل گوتریس دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پرتگال کی سیاست اور عوامی خدمت سے وابستہ رہے۔ وہ 1995 سے 2002 تک پرتگال کے وزیراعظم رہے جبکہ 1976 میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور 17 سال تک پارلیمانی خدمات انجام دیں۔
وہ 1981 سے 1983 تک کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کے رکن بھی رہے، جہاں انہوں نے آبادی، ہجرت اور پناہ گزینوں سے متعلق کمیٹی کی سربراہی کی۔ گوتریس سوشلِسٹ انٹرنیشنل سے بھی طویل عرصے تک وابستہ رہے اور 1999 سے 2005 تک اس کے صدر کے منصب پر فائز رہے۔
مزید پڑھیں:راولپنڈی، تشدد کا الزام، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے خاوند کیخلاف مقدمہ درج کرادیا
انہوں نے پرتگالی ریفیوجی کونسل اور پرتگالی کنزیومرز ایسوسی ایشن ڈی ای سی او کے قیام میں بھی کردار ادا کیا، جبکہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں لزبن کے غریب علاقوں میں سماجی ترقی کے منصوبوں پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی سربراہی بھی کی۔









