بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خام تیل کی قیمتوں میں کمی

عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil)کی قیمتیں منگل کو معمولی کم ہوگئیں، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں استحکام اور جی سیون ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کے بعد رسد سے متعلق خدشات میں کمی ہے۔ تاہم یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی اہداف پر حملوں نے خلیجی خطے سے تیل کی فراہمی کو لاحق خطرات کے باعث سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔

برینٹ خام تیل کے دسمبر کے سودے 4 سینٹ کی کمی سے 100.28 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے سودے 11 سینٹ یا 0.1 فیصد کم ہوکر 89.33 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر (Tim Waterer) نے کہا کہ گزشتہ روز کی کمی کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً مستحکم ہیں اور مارکیٹ اس وقت رسد سے متعلق خدشات میں معمولی کمی کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی برآمدات میں اضافے اور جی سیون کے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے فیصلے نے فی الحال تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے میں مدد دی ہے، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب برقرار ہے۔

مزید پڑھیں:ون ڈے ورلڈکپ 2027 میں براہ راست پہنچنے والی 10 ٹیمیں کون سی ہیں؟

شپنگ سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے میں چار دن مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کرگئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملوں کے باوجود خطے سے تیل کی ترسیل میں کسی حد تک استحکام برقرار ہے۔

جی سیون ممالک نے جمعے کو ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں ممکنہ رسد کے بحران کے خدشات میں کمی آئی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے کے اہم ترین تیل برآمد کنندگان میں شامل سعودی عرب سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بدستور برقرار رکھے ہیں۔

حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، آرامکو کی رابغ ریفائنری اور ابہا ایئرپورٹ سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری تصدیق نہیں کی گئی۔

ٹم واٹرر کے مطابق اگر واضح سفارتی پیش رفت سامنے نہیں آتی یا تیل کی برآمدی نظام میں مزید نمایاں بہتری نہیں ہوتی تو تیل کی قیمتوں کو سہارا دینے والی بنیادی صورتحال مضبوط رہنے کا امکان ہے۔