ترکیہ اور پاکستان کی افواج یہاں موجود ہیں اور ایک اسپورٹ کا کردار ادا کر رہی ہیں لیکن جنگ سعودی عرب کی فوجیں لڑ رہی ہیں، خواجہ آصف
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد نے گزشتہ روز ہنگامی اجلاس میں مکہ اور مدینہ سمیت دیگر سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب میں فوجی دستے فوری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ تینوں ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ معاہدے میں شامل ہر ملک کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا ایک لازمی جزو ہے۔
رواں سال 7 اگست کو مکہ میں طے پانے والے اس معاہدے میں تینوں ممالک نے کہا گیا تھا کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔
معاہدے کے بعد کے دنوں میں یمن کے حوثیوں باغیوں نے نہ صرف بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی پر قبضہ کر کے آبنائے باب المندب سے تیل کی سپلائی متاثر کی بلکہ سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ سمیت متعدد شہروں پر بھی حملے کیے۔
ان حملوں کی پاکستان نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو حرمین شریفین کے لیے جان بھی قربان نہ کرنے کے لیے تیار ہو۔
حملوں میں شدت کے بعد سعودی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا جس میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے یمنی فوج کو فضائی جنگ میں امداد فراہم کی۔ یمنی فوج کے مطابق اس بڑے آپریشن کا مقصد یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے بازیاب کرانا ہے۔
کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرے گا؟
سعودی آپریشن کے آغاز کے ایک روز بعد مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں معاہدے کے مطابق سعودی عرب کے دفاع کے لیے جنگی امداد اور فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ ہوا۔
فوجی دستے بھیجنے کے فیصلے سے یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرے گا؟ اس کا جواب وزیر دفاع خواجہ آصف اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود کی میڈیا سے گفتگو میں ملتا ہے۔
خواجہ آصف نے جیوز نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سامنے آنے والی تفصیل کے مطابق سعودی اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے اور ان کے قبضے سے کچھ علاقے بھی بازیاب کرائے ہیں جبکہ حوثیوں نے اس وقت پسپائی اختیار کی ہوئی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “یہ میٹنگ اس مقصد کے لیے نہیں تھی بلکہ ہم نے معاہدے کے تحت تنظیمی ڈھانچے کو باقاعدہ شکل دی ہے۔”
باغیوں کے خلاف جنگ میں ترکیہ اور پاکستان کی ‘آپریشنل سطح’ پر شرکت کے سوال پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ “دونوں ممالک یہاں موجود ہیں، لیکن فوجیں سعودی عرب کی اپنی لڑ رہی ہیں۔۔۔ہم یہاں پر موجود ہیں اور جس قسم کی مدد کی ان (سعودی عرب) کو ضرورت ہے، وہ مہیا کی جا رہی ہے۔”
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “ترکیہ اور پاکستان کی افواج ایک اسپورٹ کا کردار ادا کر رہی ہیں اور بلاشبہ ہم ریکونسنس (ریکی) وغیرہ میں انوالو ہیں لیکن عملی طور پر سعودی فوجیں کی لڑ رہی ہیں اور وہی علاقے واپس فتح کر رہے ہیں۔”
‘وقت آیا تو کارروائی بھی کریں گے’
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود سے جب العربیہ کے صحافی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرے گا، تو انہوں نے واضح کیا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے کہہ چکے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کریگا۔
انہوں نے کہا کہ “اگر حوثی سعودی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔۔۔اور پاکستان کو لگتا ہے کہ سعودی عرب کی مدد کرنے کا وقت آگیا ہے تو بلاشبہ پاکستان اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔”
قبل ازیں خبر رساں ادارے رائٹرز نے جمعہ کو ایک رپورٹ میں ذرائع سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف آپریشن سے قبل جنگی سامان مہیا کیا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ںے سعودی عرب میں 30 سے 40 ہزار فوجی بھی تعینات کیے جبکہ باغیوں کے خلاف یمنی فوج کی اسپورٹ کیلئے پاکستانی جنگی ماہرین بھی گراؤنڈ پر موجود ہیں۔
تاہم وفاقی وزارتِ اطلاعات نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں اس حوالے سے رائٹرز کی رپورٹس کی تردید کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کہ ‘من گھڑت’ اعداد و شمار پھیلانے کے بجائے رائٹرز کے لیے موضوع ہو گا کے اس معاملے میں دفتر خارجہ اور متعلقہ حکام کے سرکاری بیانات پر انحصار کیا جائے۔
تینوں ممالک کی میٹںگ کے بعد ایکس پر جاری ایک بیان میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے سعودی عرب اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے میں تینوں ممالک کے باہمی اتحاد اور یکساں مؤقف کی توثیق کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس نے مکہ دفاعی اتحاد کے دائرہ کار میں سعودی عرب کے خلاف جارحیت اور اس کے پسِ پردہ موجود تمام عناصر کے خلاف اجتماعی دفاعی و تادیبی اقدامات (اجتماعی ڈیٹرنس) کو فعال کرنے کا اعادہ کیا۔
سینئر صحافی باقر سجاد کے مطابق سلمان بن خالد نے حوثیوں یا ان کی جارحیت کا باقاعدہ ذکر کیے بغیر کیا کہ تین ممالک کا یہ اتحاد سعودی عرب کے خلاف جارحیت اور اس کے پیچھے موجود تمام عناصر کے خلاف ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دفاعی اتحاد صرف حوثی جارحیت تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ اختیار اس سے وسیع ہے۔
اجلاس کے بارے میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے اتحاد نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے تعاون اور ساتھ ہی ساتھ بات چیت کے ذریعے یمن تنازع کے پرامن حل کی تلاش پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ” ہم نے ہر پہلو سے اس بات کا بغور جائزہ لیا کہ یمن کے معاملے میں، اور خاص طور پر سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے، کس قسم کی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے اور اس تنازع کو پرامن طریقے اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ “سعودی عرب اس مسئلے کے حل کے لیے واقعی تعمیری رویہ اپنائے ہوئے ہے، اور اجلاس میں ہمیں ان کے نمائندے کو ایک بار پھر سننے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا۔”
مزید پڑھیں:وزیراعظم کی پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کی اپیل، مذاکرات کی دعوت
تاہم اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں کی تعنیاتی کے فیصلے پر سینیئر ترک صحافی رجب سوئیلو نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی دوسرے ملک میں فوجی دستے تعینات نہیں کر سکتا۔









