بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئی ایم ایف کی پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر مشروط رضامندی

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر رضامند ہوگیا تاہم ساتھ میں مطالبہ کیا ہے کہ اسکیم میں مزید صارف نہ بڑھائیں جائیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہے۔ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف مشن نے ایم ای ایف پی کی تیاری پرکام شروع کر دیا۔

آئی ایم ایف مشن کے ساتھ وزارت پٹرولیم اور پاور ڈویژن کے مذاکرات جاری ہیں، آئی ایم ایف نے صوبوں کی رضا مندی سے شوگرسیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق صوبہ سندھ نے مرکز کی شوگر پالیسی کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قراردیدیا، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق سندھ کے اختلاف کی وجہ سے شوگر پالیسی طے نہیں ہو سکی۔

آئی ایم ایف مشن کی وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ آج پھر ملاقات ہوگی، آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی میں ای ویز کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ مشن پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر رضامند ہوگیا تاہم ساتھ میں مطالبہ کیا ہے کہ اسکیم میں مزید صارف نہ بڑھائیں جائیں۔

قرض پروگرام کی اگلی قسط کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوگئی۔ چوتھے جائزہ مذاکرات میں توانائی شعبے کی اصلاحات، ٹیکس وصولیوں اور معاشی اہداف پر بات چیت جاری ہے۔ مذاکرات کامیاب رہے تو رواں ہفتے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسی پیش کردیا ۔ ذرائع کے مطابق وفد کی ایف بی آر اور وزارت پٹرولیم کے حکام سے ملاقاتیں ہوں گی۔ وزیراعظم کی فیول سبسڈی اسکیم، گیس ٹیرف اور توانائی شعبے کے گردشی قرضے زیر بحث آئیں گے۔

تکنیکی سطح کے مذاکرات میں ایف بی آر نے رواں سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ آئی ایم ایف مشن نے اب تک کی پیش رفت اور جولائی سے ستمبر تک کے محصولات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اقتصادی ٹیم نے دسمبر 2026 تک نئے این ایف سی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کے باوجود آئی ایم ایف نے گردشی قرضے میں کمی، ڈسکوز کے نقصانات پر قابو پانے اور نجکاری کے لیے اقدامات پر زور دیا ۔ پالیسی سطح کے مذاکرات میں معاشی اصلاحات، ایف بی آر محصولات اور دیگر اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو چار فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔علاقائی کشیدگی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آئی ایم ایف مشن مجموعی جائزے کا اعلامیہ جاری کرے گا۔

مزید پڑھیں:امسال سندھ میں ایم پاکس کے 93 کیسز کی تصدیق، 11 اموات، پی ڈی ایس آر یو

بات چیت نامکمل رہنے کی صورت میں ورچوئل مذاکرات جاری رہیں گے۔ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کا اجرا آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔