پاکستان تحریک انصاف (PTI) خیبرپختونخوا میں اندرونی کشمکش ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی زبان پر قابو نہ رکھا تو وہ ایسے حقائق سامنے لائیں گے جن کے بعد ان کے لیے منہ دکھانا مشکل ہوجائے گا۔
خود ساختہ ٹیپو سلطان، میڈ ان چائنہ
اپنی زبان کو لگام دو، یہ بکواس بند کرو ورنہ ایسا ایکسپوز کروں گا کہ منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہوں گے
تم کس شرط پر کیسے اور کون لایا ہے، تمہیں شرم نہیں آتی؟
سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو، سہیل آفریدی کے بیان پر برس پڑے https://t.co/lwnnmdXiYP
— Kamran Ali (@akamran111) October 8, 2026
آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور انتہائی غصے میں دکھائی دیتے ہیں اور سہیل آفریدی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہیں۔
آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب اپنی زبان کو لگام دیں، ہم اتفاق اور اتحاد کے ساتھ چل رہے ہیں اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن اس طرح کی باتیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا، ‘خدا کی قسم، ایسا ایکسپوز کروں گا کہ تم کیسے آئے ہو، کس شرط پر آئے ہو اور تمہیں کون لایا ہے؟’
سابق وزیراعلیٰ نے اپنے آڈیو پیغام میں 26 نومبر2025 کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی سے متعلق دعویٰ کیا کہ انہیں اس تاریخ کو ایک اعلان کرنا تھا، لیکن انہوں نے وہ اعلان نہیں کیا۔
انہوں نے سہیل آفریدی کو ’خودساختہ ٹیپو سلطان‘ اور ’میڈان چائنا‘ بھی قرار دیا۔ علی امین گنڈاپور نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی نے مبینہ طور پر معاملات طے ہونے کے بعد جان بوجھ کر تاخیر کی۔ انہوں نے اسے سیاسی معاملات میں مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔
آڈیو پیغام میں سابق وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقاتوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور سہیل آفریدی پر الزام لگایا کہ عمران خان کی ملاقاتیں بند کروانے میں ان کا کردار تھا۔
علی امین گنڈاپور نے مزید دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے سہیل آفریدی کو اقتدار میں لانے والے شخص کے لیے بھیجے گئے پیغامات اور اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ریکارڈ سامنے لے آئے تو سہیل آفریدی کے لیے اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا۔
سابق وزیراعلیٰ نے بشریٰ بی بی کی بیٹی کی ملاقاتیں بند کروانے کا الزام بھی سہیل آفریدی پر عائد کیا اور کہا کہ ان تمام معاملات سے متعلق تفصیلات ان کے پاس محفوظ ہیں۔
مزید پڑھیں:’گورنر کو گاڑی کے پیچھے باندھ دوں گا، کوئی رہا کرکے تو دکھائے‘، اقبال آفریدی کی دھمکی
علی امین گنڈاپور نے الزام لگایا کہ سہیل آفریدی نے ملاقاتوں اور دیگر معاملات میں مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس پورے معاملے کا ریکارڈ سامنے لے آئے اور تمام حقائق بیان کردیے تو سہیل آفریدی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ نے بشریٰ بی بی کو چھوڑ کر چلے جانے کا الزام بھی عائد کیا اور سہیل آفریدی کی پشتون روایات اور غیرت کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے اندر اتحاد اور اتفاق برقرار رکھنے کے لیے خاموش ہیں، لیکن اس خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو واضح الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو وہ ایک ایک معاملے کا جواب دیں گے اور تمام ریکارڈ منظرعام پر لے آئیں گے۔
‘میں نے سخت پیغام لکھ کر ڈیلیٹ کردیا، کیونکہ یہاں سے باتیں میڈیا کو لیک ہوتی ہیں’
پہلے آڈیو پیغام کے بعد علی امین گنڈاپور کا ایک اور آڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اس تنازع پر ایک انتہائی سخت پیغام تیار کیا تھا، تاہم اسے اس خدشے کے باعث ڈیلیٹ کردیا کہ وہ میڈیا تک پہنچ جائے گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا، ‘میں نے میسج تو بڑا مزے کا کرارا کیا تھا لیکن میں نے اس لیے ڈیلیٹ کردیا کہ یہ لیک ہو کر پھر میڈیا پر چلا جائے گا، یہاں سے لیک ہوتی ہیں چیزیں۔’
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو کسی کو زیب نہیں دیتیں۔
سابق وزیراعلیٰ نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا کہ ان کے پاس ایک ایک معاملے کا ریکارڈ موجود ہے اور اگر وہ تمام باتیں سامنے لے آئے تو بہت سے لوگ بے نقاب ہوجائیں گے۔
‘خان صاحب اور پارٹی کی وجہ سے خاموش ہیں، ورنہ سب ایکسپوز ہوجائیں گے’
دوسرے آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے اپنی خاموشی کی وجہ عمران خان اور پارٹی کی موجودہ صورتحال کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ‘ہم چپ ہیں خان صاحب کی وجہ سے، پارٹی کے حالات کی وجہ سے، لیکن یہ جو زبان استعمال ہوئی ہے، اتنا بڑا الزام لگایا گیا ہے، میں یہ برداشت نہیں کروں گا۔’
سابق وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ کوئی شخص کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہو، انہیں ہر ایک کی حقیقت معلوم ہے اور وہ احسان فراموشی کرنے والوں کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ احسان فراموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کی خاموشی ہمیشہ برقرار رہے گی۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے اپنے پہلے تحریری پیغام میں تمام معاملات پر کھل کر بات کی تھی، تاہم صرف پارٹی کے مفاد میں اسے ڈیلیٹ کردیا۔
‘اتنا کرو جتنا برداشت کرسکو، ورنہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے’
دوسرے آڈیو پیغام میں سابق وزیراعلیٰ کا لہجہ مزید سخت ہوگیا اور انہوں نے سہیل آفریدی کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا، ‘اتنا کرو جتنا برداشت کرسکو، میں اس طرح کی بکواس بالکل برداشت نہیں کروں گا، اس طرح کا الزام بالکل برداشت نہیں کروں گا۔’
انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے تمام معاملات کو بے نقاب کرنا شروع کیا تو متعلقہ افراد کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا، ‘خدا کی قسم، تم منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے، میرے پاس ہر چیز ہے، ایک ایک چیز ہے۔’
انہوں نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کے خلاف گفتگو کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں اور خود کچھ کرکے دکھائیں۔
آڈیو پیغام کے اختتام پر سابق وزیراعلیٰ نے سہیل آفریدی کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہ لحاظ کررہے ہیں اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، دوسری جانب ان کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں۔
علی امین گنڈاپور کے اس آڈیو پیغام میں سب سے اہم پہلو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اقتدار میں آنے کی مبینہ شرائط، انہیں اقتدار میں لانے والے افراد اور عمران خان و بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں سے متعلق لگائے گئے الزامات ہیں۔ تاہم آڈیو میں ان دعوؤں کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی قیادت کے اندر اختلافات پہلے بھی منظرعام پر آچکے ہیں۔ رواں سال مئی میں بھی سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے پشاور میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ہم سے پہلے جو لوگ اسلام آباد مارچ کرتے تھے وہ فکس میچ کھیلتے تھے مگر اس بار ہم ضرور جیتیں گے اور کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ کارکنان کے ساتھ کھڑے ہیں۔









