امریکہ کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بے لگام استعمال نے امریکی اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں نقل اور اخلاقی بدعنوانی کا ایک غیر معمولی اور شدید سائنسی بحران پیدا کر دیا ہے، جس سے روایتی تعلیمی ڈھانچہ لرز کر رہ جاتا ہے.
تحقیق میں سامنے آنے والے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق امریکہ میں زیرِ تعلیم طالب علموں کی ایک بڑی اکثریت اپنے روزمرہ کے تعلیمی کام اور پیچیدہ تحریری اسائنمنٹس کو خود قلمبند کرنے کے بجائے اے آئی چیٹ بوٹس سے تیار کروانے میں مصروف ہے، جہاں 95 فیصد کے قریب طلبہ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ کم از کم ایک یا زیادہ اسائنمنٹس کے لیے ان مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کا سہارا لیتے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال نے امریکی اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کے نیندیں اڑا دی ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس رجحان سے طلبہ کے اندر تنقیدی فکر، تحقیق اور گہرے مطالعے کی صلاحیتیں مکمل طور پر ختم ہو رہی ہیں اور وہ کسی حقیقی علم کو حاصل کرنے کے بجائے محض “سیکھنے کے ایک بڑے فریب” یا خوش فہمی کا شکار ہو رہے ہیں۔
اس بحران کو مزید بھیانک اور ناقابلِ گرفت بنانے میں مارکیٹ میں آنے والے نئےہیومنائزنگ (Humanizing) اے آئی ٹولز اور پروگرامز مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ سافٹ ویئرز چیٹ بوٹس کی تیار کردہ تحریروں، ان کے جملوں کی بناوٹ اور اندازِ تحریر کو اس قدر مہارت سے انسانی طرز میں تبدیل کر دیتے ہیں کہ وہ پڑھنے میں بالکل قدرتی اور اصلی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے باعث اساتذہ کے لیے کسی تحریر میں اے آئی کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جبکہ روایتی پلئجرازم اور اے آئی ڈٹیکٹر سافٹ ویئرز کے غلط نتائج کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
ریسرچرز اور ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اساتذہ اس وقت اے آئی تحریر کو پکڑنے والے ٹولز (ڈیٹیکٹرز) اور اس کا توڑ نکالنے والے پروگرامز (ایویڈرز) کی اس جارحانہ اور روزافزوں تکنیکی جنگ میں مکمل طور پر ہار چکے ہیں۔ اب امریکی جامعات کو اپنے صدیوں پرانے امتحانی طریقہ کار، ہوم اسائنمنٹس اور تحریری جائزے کے نظام پر ازسرِنو غور کرنا پڑ رہا ہے، اور ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تعلیم کے بنیادی معیار، سچائی اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے روایتی اسائنمنٹ کلچر کو تبدیل کر کے لائیو انٹرویوز اور تحریری کلاس روم ٹیسٹنگ جیسے متبادل راستے اختیار کیے جائیں۔









