اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی اور مسلم لیگ (ق) کے سینئر نائب صدر چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، سکیورٹی انتظامات میں خامیوں اور صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کے باعث امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایمرجنسی سے متعلق آئینی اقدامات کی نوبت آئی۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کو ڈرون اور بارودی حملوں جیسے نئے خطرات کا سامنا ہے۔ پولیس کی خالی آسامیوں، جنوبی اضلاع میں جدید سازوسامان کی کمی اور محدود نگرانی کے نظام جیسے مسائل بھی فوری توجہ چاہتے ہیں۔
چوہدری سالک حسین کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں انسدادِ دہشتگردی کے لیے مبینہ طور پر 800 ارب روپے فراہم کیے جانے کے باوجود سکیورٹی اداروں کے وسائل اور کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے فنڈز کے استعمال اور سکیورٹی انتظامات کا شفاف جائزہ لینے پر زور دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اختلافات اور عدم تعاون رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور پولیس و سی ٹی ڈی کو جدید وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:دھرنا کوئی مسئلہ نہیں، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ہمارا ایشو ہے، محسن نقوی
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، بچوں، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے امن کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اب سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن کی بحالی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے بقول حکومت کا مقصد کسی کے سیاسی مینڈیٹ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صوبے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔









