بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غریب کا ذہین بچہ بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے، دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی فرق ختم کرنے کی کوشش ہے، شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف(Shehbaz Sharif) نے کہا ہے کہ دانش اسکولوں کا مقصد پاکستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے، خواہ اس کا تعلق امیر خاندان سے ہو یا غریب گھرانے سے۔ کوئی بچہ شہر میں رہتا ہو یا دیہات اور قصبے میں، یتیم ہو یا مزدور کا بیٹا اور بیٹی، اسے اپنی محنت، قابلیت، امانت اور دیانت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دانش اسکولوں کا دائرہ پنجاب سے بڑھا کر ملک کے دیگر حصوں تک پھیلایا جا رہا ہے اور اس وقت مختلف علاقوں میں 27 دانش اسکول زیرِ تعمیر ہیں۔

اسلام آباد میں دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں اور طلبہ کی زندگیوں پر مبنی کہانیوں نے حاضرین کو جذباتی کر دیا۔ ان بچوں اور ان کی ماؤں نے جن مشکلات کا سامنا کیا، وہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غربت اور نامساعد حالات کے باوجود محنت اور تعلیم سے زندگی بدلی جا سکتی ہے۔


شہباز شریف نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے بچپن میں اپنے والد کو کھو دیا تھا، تاہم مشکلات کے باوجود تعلیم کا سفر جاری رکھا اور ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کی منزل حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بچوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ذہانت اور صلاحیت کسی ایک طبقے تک محدود نہیں، ضرورت صرف انہیں مناسب مواقع فراہم کرنے کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا ذکر بھی کیا جو ڈیرہ غازی خان کے دانش اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ شہباز شریف کے مطابق اس نوجوان نے بتایا کہ جب وہ بلوچستان سے پنجاب آیا تو اسے خدشہ تھا کہ پتا نہیں وہاں اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا، لیکن دانش اسکول میں اسے دوسرے صوبوں کے طلبہ کے ساتھ محبت اور اپنائیت ملی۔ وزیرِ اعظم نے اس تجربے کو ایسے پاکستان کی مثال قرار دیا جہاں صوبائی شناخت سے بالاتر ہو کر سب کو برابر سمجھا جاتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ دانش اسکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ میں ڈاکٹر، انجینیئر، پولیس افسر، بیوروکریٹ اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والے نوجوان شامل ہیں۔ ان کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر محروم خاندانوں کے بچوں کو تعلیم کے مناسب مواقع ملیں تو وہ بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:بابراعظم نے ون ڈے میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا

شہباز شریف نے کہا کہ 1947 میں قیامِ پاکستان کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں اور اپنے گھر بار چھوڑے۔ ان کا خواب ایک ایسے ملک کا تھا جہاں سامراجی غلامی اور ناانصافی کا خاتمہ ہو اور ہر شخص کو اپنی قابلیت، محنت اور دیانت کے بل پر آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ہم اپنے بزرگوں کے اس خواب کی تکمیل کے لیے کہاں تک پہنچے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ پنجاب سے شروع ہونے والے دانش اسکولوں کے منصوبے کو اب پورے ملک میں وسعت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں 27 دانش اسکول زیرِ تعمیر ہیں۔ انہوں نے شمالی وزیرستان، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی موجودگی کو پاکستان کے مختلف علاقوں اور ثقافتوں کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔


انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والی وزارتِ تعلیم، متعلقہ حکام اور دیگر اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دانش اسکولوں میں جدید علوم کی فراہمی پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق اداروں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں کے ذریعے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے اور عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے تمام بچوں کو تعلیم کے برابر مواقع فراہم کیے بغیر قائداعظم کے تصورِ پاکستان کی تکمیل ممکن نہیں۔ دانش اسکولوں کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو محنت، دیانت اور عزم کے ساتھ اپنی زندگی بہتر بنانے کے علاوہ ملک و قوم کی خدمت بھی کر سکیں۔

وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب کا اختتام اس شعر پر کیا:

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا