لاہور : (مانیٹرنگ ڈیسک ) الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈ کے فیصلے نے سیاسی طور پر کوئی زیادہ ہلچل نہیں مچائی ۔
معاملات کو طے کرنے کیلئے گیند حکومت اور عدلیہ کے کورٹ میں ڈال دی گئی ، تاہم اس فیصلےکی خاص بات یہ ہے کہ تمام فریق کافی حد تک اس سے مطمئن ہیں اور کوئی بھی غیر ضروری طور پر تشویش اور پریشانی میں مبتلا نہیں ۔
ایسا معلوم دیتاہے کہ ملک کی مجموعی ہیجان زدہ سیاسی صورتحال میں اسی طرح کا فیصلہ مناسب تھا ۔
اس وقت ملک بری طرح معاشی خراب صورتحال میں پھنسا ہوا ہے اور ایسے وقت میں مظاہروں احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ تحریک انصاف نے بھی خاص حکمت عملی کے تحت اس فیصلے پر بہت زیادہ غصے اور انتہاپسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
تحریک انصاف کو معلوم ہے کہ معاملہ التوا میں رکھا گیا ہے ، عدلیہ کی جانب سے عمران خاں کی امین و صادق نہ ہونے کے باعث مستقل نااہلی ہو سکتی ہے تحریک انصاف کی جماعت پر بھی زد آ سکتی ہے اور مناسب اور موزوں موقع پر اس کے سرکردہ رہنما بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں ۔
یہ فیصلہ آئندہ کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے۔ تحریک انصاف نے فیصلے کے حوالے سے اپنے حامیوں کو کسی طرح کا اشتعال نہیں دلایا اگر وہ اس کو اپنی شکست سے تعبیر کرتے تو اس میں ان کی سبکی بھی ہوتی اور پارٹی میں انتشار بھی پیدا ہو سکتا تھا ۔
انہوں مخصوص حکمت عملی کے تحت یہ تاثر دیا کہ جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں جبکہ قانونی و آئینی ماہرین کے مطابق مستقبل میں عدالتوں کے ذریعے وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جس کا خطرہ تحریک انصاف آج محسوس کر رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے عمران خان کی پارٹی پر گرفت کمزور ہو سکتی ہے اور پارٹی قیادت کیلئے اور بڑے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔
اب تحریک انصاف اس تذبذب میں رہے گی کہ اس کو انتخابات کے انعقاد کیلئے کونسا وقت مناسب رہے گا ۔گومگو اور غیر یقینی صورتحال میں انتخابات میں جانا خطرے سے خالی نہ ہو گا کیونکہ پارٹی چیئرمین اور پارٹی کی صورتحال اگر غیر واضح اور غیر یقینی ہو گی تو انتخابات میں ٹکٹ ہولڈر امیدوار اور ووٹر کی یکسوئی اور دلجمعی متاثر ہو گی۔
سب سے بڑی بات عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا رویہ اور رجحان ہو گا اس بات کی بھی بڑی اہمیت ہو گی کہ عمران خاں آئندہ آنے والے دنوں میں خطرہ بھانپتے ہوئے اپنی عوامی قوت کا مظاہرہ نہ شروع کر دیں یہ پھر ایک یوٹرن ہو گا۔








