برسلز/پیرس: فرانس اور جرمنی نے یورپ کی خودکار گاڑیوں کی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی “میڈ ان یورپ” (Made in Europe) صنعتی پالیسی کے موقف کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چینی آٹو سائیڈ اور بالخصوص الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کی صنعت پر عالمی اور یورپی مارکیٹ میں شدید انتظامی و معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، برلن اور پیرس کی جانب سے یورپی یونین کے سامنے پیش کی جانے والی نئی مشترکہ تجارتی و صنعتی تجویز میں واضح کیا گیا ہے کہ یورپ میں عمومی سبسیڈی، سرکاری مراعات اور سرکاری خریداریوں کا اہل بننے کے لیے غیر ملکی اور چینی گاڑی ساز اداروں کو اپنی مینوفیکچرنگ، اسمبلی لائنز اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) کا بڑا حصہ لازمی طور پر یورپی یونین کی حدود میں منتقل کرنا پڑے گا۔
اس مجوزہ فریم ورک کا بنیادی مقصد یورپ کی داخلی آٹو موٹیو صنعت اور مقامی پیداواری صلاحیت کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جس کو سستی چینی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ یورپی یونین کمیشن کے ایگزیکٹو نائب صدر سٹیفن سیجورنے اور کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے اس حوالے سے واضح کیا کہ کسی بھی گاڑی کو “یورپی گاڑی” کا درجہ دینے کے لیے یہ دیکھا جائے گا کہ اس کی تیاری میں یورپ کے اندر تیار کردہ اسپئیر پارٹس، بیٹریوں اور مقامی پرزہ جات کا کتنا حصہ استعمال کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑی ساز کمپنیوں نے گزشتہ چند سالوں کے دوران اپنی ملکی مارکیٹ میں سست روی کے بعد یورپی یونین کی طرف برآمدات کا رخ کیا تھا۔ تاہم، یورپی یونین کی جانب سے ٹیرف کی نئی پابندیوں اور اب اس سخت میڈ ان یورپ شرط کے نفاذ کے بعد چینی کمپنیوں کو یورپی مارکیٹ میں اپنی بقا برقرار رکھنے کے لیے کھربوں ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری یورپی ممالک میں کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
فرانس اور جرمنی کے اس سخت موقف پر فرانس کے نو منتخب تجارتی خدوخال اور یورپی پارلیمنٹ کے تحفظ پسند اراکین نے مکمل اتفاق ظاہر کیا ہے، جبکہ یورپ کی معروف آٹو موٹیو کمپنیوں جیسے وولکس ویگن، رینالٹ اور اسٹیلنٹِس نے بھی یورپ کے اندر روزگار بچانے اور مقامی فیکٹریوں کی پیداوار بڑھانے کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ چینی گاڑی سازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محض اسمبلنگ یا برآمدات تک محدود رہنے کی بجائے یورپ میں نوکریاں پیدا کریں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنائیں۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے چینی برانڈز کے یورپی مارکیٹ میں حصص متاثر ہوں گے اور جو کمپنیاں یورپی حدود میں کارخانے قائم کرنے اور مقامی ورک فورس کو استعمال کرنے میں ناکام رہیں گی، انہیں تمام تر سرکاری رعایتوں سے مکمل طور پر محروم کر دیا جائے گا، جس سے چینی آٹو سیکٹر کی یورپی توسیع کی حکمتِ عملی کو سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔









