نئی دہلی/ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کے بھتیجے اور سابقہ اداکار عمران خان اس وقت بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ممبئی میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ممبئی پولیس کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد انہیں مبینہ طور پر بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس کے خلاف اب انہوں نے باقاعدہ طور پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔
مظاہرے میں شرکت اور گرفتاری کا پس منظر:
تفصیلات کے مطابق، پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان نے ممبئی میں منعقد ہونے والے ایک احتجاج (سی جے پی پروٹیسٹ) میں شرکت کی تھی۔ اس پرامن یا احتجاجی سرگرمی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص ممبئی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر ان کی حراست کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں، جن میں مداحوں اور انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے کیے گئے۔ انٹرنیٹ پر بعض صارفین نے اس معاملے پر انہیں سراہا تو کچھ حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ گرفتاری اور حراست کے اس واقعے نے اس وقت نیا موڑ لیا جب انتظامیہ کی جانب سے ان کی شہریت اور ملک میں موجودگی کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے گئے۔
امریکی شہریت اور اوورسیز سٹیزن شپ (OCI) کا تنازع:
اطلاعات کے مطابق عمران خان کے پاس امریکی شہریت کے ساتھ ساتھ اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (OCI) کا کارڈ بھی موجود ہے۔ اسی بنیاد پر حکام کی جانب سے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ملکی قوانین اور غیر ملکی شہریوں کے لیے طے شدہ ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں ان کی بھرپور شرکت کے بعد دباؤ بڑھا اور انہیں ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا، جس نے فلمی دنیا اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے افراد اور بالخصوص مشہور شخصیات کے لیے ایسے سیاسی یا سماجی مظاہروں میں حصہ لینا انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہوتا ہے، اور یہی حساسیت اس پورے تنازع کی بنیادی وجہ بنی ہے۔
بمبئی ہائی کورٹ میں قانونی چیلنج:
اس نوٹس کے سامنے آنے کے بعد عمران خان نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے فوری اور سخت قانونی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، عمران خان نے اپنے وکلا کے توسط سے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور اس مبینہ لیو انڈیا (Leave India) نوٹس کو باقاعدہ طور پر چیلنج کر دیا ہے۔ عدالت میں دائر کی جانے والی پٹیشن میں اس بات کو چیلنج کیا گیا ہے کہ آیا اس قسم کا نوٹس جاری کرنا قانونی تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں، اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مقدمہ او سی آئی (OCI) کارڈ ہولڈرز کے حقوق اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم قانونی مثال بن سکتا ہے۔
فلمی کیریئر اور خاندانی پس منظر:
عمران خان نے بالی ووڈ میں فلم ’جانے تو یا جانے نہ‘ سے اپنے کیریئر کا ایک شاندار آغاز کیا تھا اور اس کے بعد کئی رومانوی و مزاحیہ فلموں میں کام کیا۔ اگرچہ وہ پچھلے کچھ عرصے سے فلمی پردے سے دور ہیں اور اپنی ذاتی زندگی میں مصروف ہیں، تاہم ان کا تعلق براہ راست خان خاندان سے ہونے کی وجہ سے ان کی ہر سرگرمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بمبئی ہائی کورٹ اس معاملے میں کیا فیصلہ صادر کرتی ہے اور آیا عمران خان کو بھارت میں رہنے کی اجازت برقرار رہتی ہے یا انہیں واقعی یہ ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔









