تہران: مشرق وسطیٰ میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی بحران کے درمیان جمہوریہ ایران نے اپنی عسکری اور دفاعی قیادت میں بڑا سرجیکل فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے ملک کے نئے وزیرِ دفاع کی نامزدگی پر منظوری کی مہر ثبت کر دی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کی موجودگی میں ہونے والی اس غیر معمولی قانون سازی کو خطے میں ممکنہ عسکری تصادم کی تیاریوں کے سلسلے سے جوڑا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس اور فیصلے کا سنسنی خیز پس منظر:
تفصیلات کے مطابق، خطے میں جاری سیکیورٹی صورتحال، فضائی و دفاعی چیلنجز اور طاقتور بین الاقوامی دباؤ کے پیشِ نظر ایرانی قانون سازوں نے ملک کی عسکری پالیسی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ اس خاص پارلیمانی اجلاس میں صدر مسعود پزشکیان بھی خود موجود تھے، جہاں انہوں نے نئی عسکری قیادت پر اپنے کامل اعتماد کا اظہار کیا۔ ماہرینِ دفاع کے مطابق، ایران کی جانب سے ایسے وقت میں ایک تجربہ کار اور جنگی حکمتِ عملی سے واقف شخصیت کو وزیرِ دفاع مقرر کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تہران انتظامیہ کسی بھی متوقع فوجی ردِعمل یا خطے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے مکمل دفاعی حالت میں آ چکی ہے۔
عسکری صلاحیتوں میں اضافہ اور علاقائی طاقت کا مظاہرہ:
نئے وزیرِ دفاع کی منظوری کا مقصد ایران کے ڈرون پروگرام، میزائل صلاحیتوں اور سرحدی دفاعی سسٹمز کو مزید اپ گریڈ کرنا ہے۔ پارلیمانی کارروائی کے دوران عسکری بجٹ، سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) اور باقاعدہ مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ نئی قیادت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں موجود حلیفوں کے ساتھ رابطوں کو استوار رکھے بلکہ ایران کی خود مختاری پر حملہ آور ہونے والی ہر بیرونی دھمکی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے جدید ترین ڈیٹرنس (Deterrence) حکمتِ عملی اپنائ۔
عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی میڈیا کی گہری نظر:
تہران کے اس فیصلے پر عالمی سفارتی اور عسکری حلقوں میں شدید سنسنی پھیل گئی ہے۔ امریکی و یورپی عسکری تجزیہ کار اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ روس اور چین کے ساتھ ایران کے گہرے ہوتے ہوئے دفاعی تعاون کے تناظر میں، نئی ایرانی دفاعی قیادت کا یہ انتخاب آنے والے دنوں میں خطے کے سیکیورٹی نقشے کو بالکل تبدیل کر سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ پر اس فیصلے کے مجموعی اثرات:
اس عسکری تقرری نے خلیجی ممالک، مصر اور دیگر علاقائی کھلاڑیوں کو بھی اپنی سیکیورٹی پالیسیوں پر ثانیِ نظر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں مصر نے پہلے ہی ممکنہ دفاعی اقدامات کے تحت اہم اعلانات کیے ہیں، وہیں ایران کا یہ مضبوط عسکری قدم یہ واضح کرتا ہے کہ آنے والے ایام میں مشرق وسطیٰ میں سفارتی تناؤ مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔









