وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری(Tariq Fazal Chaudhry) نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، صوبے میں 11 اکتوبر کو صدارتی فرمان کے ذریعے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، جس کی پارلیمنٹ سے توثیق بھی کرائی گئی۔ گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل کام کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کی کوشش تھی کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریق ایک صفحے پر آئیں، کیونکہ صوبائی سطح پر مؤثر تعاون کے بغیر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا عملاً ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی کے باعث خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی جیسے اقدام کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور حکومت نے ملک کو ہر قسم کی دہشتگردی سے پاک کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی دہشتگردوں یا دہشتگردی کی مذمت نہیں کی اور خیبرپختونخوا حکومت نے افغانستان سے متعلق پالیسی پر وفاق کے ساتھ تعاون سے بھی انکار کیا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشتگردوں اور ملک دشمن عناصر کا گٹھ جوڑ کسی صورت قابل قبول نہیں، افغانستان سے دراندازی کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جائے گا اور دہشتگردی کے اس گٹھ جوڑ کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی مسلسل پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ غیر ملکی عناصر کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بھی معاونت کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی معیشت مستحکم کی اور سرمایہ کاری لائی ہے۔ خیبرپختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل ہیں اور ملک میں امن کے قیام کی خاطر صوبے میں ایمرجنسی جیسا اقدام اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر کوئی ابہام نہیں اور حکومت ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔









