بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فیلڈ مارشل ، ایرانی قیادت ملاقاتیں، کیرٹ اینڈ اسٹک کی امریکی پالیسی قابل قبول نہیں، تہران

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان ، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور سکیورٹی چیف محسن رضائی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں جنگ بندی اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی صدر کیساتھ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تھے۔

پاکستان نے رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایرانی قیادت سے رابطے اور تہران کا دورہ اسی سفارتی عمل کا حصہ ہے۔

جنگ کے بعد فیلڈ مارشل کا یہ ایران کا چوتھا دورہ ہے تاہم اب تک کی کوششوں کے باوجود تنازع کے مستقل حل اور آبنائے ہرمز میں معمول کی آمدورفت کی بحالی کے لیے اہم چیلنجز برقرار ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل سے ملاقاتوں کے دوران ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس کے مطالبات پورے ہونے تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل سے ملاقات کے موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقر قالیباف نے کہا کہ جب تک امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے گزشتہ ماہ پیش کردہ سات شرائط پوری نہیں کرتا، تہران واشنگٹن پر دوبارہ اعتماد نہیں کر سکتا۔

ایران کے مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہیں۔

ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ ملاقات میں بھی یہی مؤقف دہرایا کہ تہران کے مطالبات پورے ہونے تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسی میٹنگ کے دوران فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان۔ایران بارڈر کھلی ہے۔

ارنا کے مطابق یورینیم کی منتقلی کے معاملے پر محسن رضائی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ ہتھیاروں کے درجے کے قریب افزودہ یورینیم بیرون ملک نہیں بھیجا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے اور امریکا کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہو گی۔

خیال رہے امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنا تشویش کا باعث ہے۔

کیونکہ یہ عام مقاصد کے لیے درکار افزودگی سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ جوہری ہتھیار کے درجے تک پہنچنے کے لیے عموماً تقریباً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کے الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔

اس سے قبل جون میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی پر ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم چند ہفتوں بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے سے یہ پیشرفت برقرار نہ رہ سکی۔

مزید پڑھیں:بدر مفاہمتی یادداشت: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بڑا دفاعی معاہدہ

ایران کی جانب سے مذاکرات کو مطالبات کی تکمیل سے مشروط کرنے کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں۔