اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی حراست میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 سے بڑھا کر 40 روز کرنے کے آرڈیننس کیخلاف آئینی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر رائے دینا غیر ضروری ہے۔
نیب ترامیمی آرڈیننس 2024 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 روز سے بڑھا کر 40 روز کی گئی تھی۔ قائم مقام صدر مملکت نے یہ آرڈیننس 27 مئی 2024 کو جاری کیا تھا، تاہم اسے پارلیمنٹ سے توسیع ملی اور نہ ہی باقاعدہ ایکٹ بنایا گیا۔
اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ بھی نیب آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے پر اسی نوعیت کی درخواست نمٹا چکی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے نیب آرڈیننس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ نیب ترامیمی آرڈیننس کی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد وہ خود ہی منسوخ ہو چکا ہے، اس لیے اس کے خلاف عدالت کے سامنے کوئی تنازع موجود نہیں رہا۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار اپنے خلاف آرڈیننس کے تحت کسی کارروائی یا سزا کو ثابت نہیں کر سکا۔ عدالتیں مستقبل میں بننے والے ممکنہ قوانین کو روکنے کے لیے پیشگی فیصلے نہیں کر سکتیں۔ اسی بنیاد پر نیب ترامیمی آرڈیننس 2024 کے خلاف دائر آئینی درخواست نمٹا دی گئی۔
واضح رہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 میں ایسے وقت میں جاری کیا گیا تھا جب احتساب کے قانون میں ہونے والی سابقہ ترامیم کے تحت جسمانی ریمانڈ کی مدت 90 روز سے کم کرکے 14 روز کر دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل ، ایرانی قیادت ملاقاتیں، کیرٹ اینڈ اسٹک کی امریکی پالیسی قابل قبول نہیں، تہران
مئی 2024 میں قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نیا آرڈیننس جاری کیا، جس کے ذریعے یہ مدت دوبارہ بڑھا کر 40 روز کر دی گئی۔









