بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ(Islamabad High Court) نے 30 سالہ سروس مکمل کرنے والے ریٹائرڈ ملازم کی پنشن کی عدم فراہمی کے خلاف درخواست پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ اور تمام متعلقہ حکام کو درخواست گزار کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کی تمام مراعات فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ پنشن دورانِ ملازمت کی جانے والی محنت کا مؤخر شدہ معاوضہ ہے، جو بڑھاپے میں مالی سیکیورٹی کے لیے دیا جاتا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل موصول ہونے کے 30 دن کے اندر تمام کارروائی مکمل کرکے رقم جاری کی جائے۔

وزارتِ خزانہ کا موقف تھا کہ 2008ء میں کی گئی کنٹریکٹ تعیناتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے ذریعے نہیں ہوئی تھی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بھرتی کا طریقہ کار مقرر کرنا اور ایف پی ایس سی کو کیس بھیجنا ادارے کا کام تھا، ملازم کو اس کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

مزیدپڑھیں:کراچی میں منکی پاکس سے ڈیڑھ سالہ بچہ جاں بحق، اموات 12 ہوگئیں

عدالت نے مزید قرار دیا کہ دو دہائیوں تک ملازم کی سروس تسلیم کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ پر پنشن روکنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے کنفرمیشن، ریگولرائزیشن اور گریڈ 17 کی منظوری کے تمام احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنشن کیس حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی کی۔

درخواست گزار نوید اللہ نے 28 مئی 1995ء کو وزارتِ خوراک و زراعت میں گریڈنگ انسپکٹر (بی ایس-13) کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا تھا اور 16 اگست 1997ء کو انہیں مستقل کردیا گیا تھا۔

18ویں آئینی ترمیم کے تحت وزارتوں کی تحلیل کے بعد درخواست گزار کو سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز میں منتقل کیا گیا۔ کابینہ سب کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں 2012ء میں انہیں ریگولرائز کیا گیا، جبکہ 2015ء میں نیشنل سیونگز میں انضمام کیا گیا۔

درخواست گزار تقریباً 30 سالہ سروس مکمل کرنے کے بعد 22 اپریل 2025ء کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے تھے، تاہم پنشن اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی پر انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔