بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان کا کہنا ہے کہ معروف فلمی خاندان سے تعلق رکھنے کے باعث انہیں انڈسٹری میں مواقع تک رسائی ضرور ملی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی کامیابی میں محنت کا کوئی کردار نہیں۔ ان کے مطابق اقربا پروری پر مسلسل بحث کی وجہ سے بعض اوقات فنکاروں کی اپنی کوششیں نظرانداز ہوجاتی ہیں۔
سارہ علی خان کا تعلق بھارتی فلمی صنعت کے ایک معروف گھرانے سے ہے۔ ان کی دادی شرمیلا ٹیگور جبکہ والدین امریتا سنگھ اور سیف علی خان بھی اداکاری کی دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ خاندانی پس منظر ان کے لیے سہولت بنا یا دباؤ کا سبب، تو انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پہلو اپنی جگہ موجود ہیں۔
اداکارہ کے مطابق وہ اتنی ناسمجھ نہیں کہ اپنے خاندانی پس منظر کے فائدے کو تسلیم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس تعلق نے ان کے لیے دروازے کھولے، انہیں فلمی دنیا تک رسائی دی اور پہچان و شہرت حاصل کرنے میں مدد دی۔ تاہم ان کے خیال میں اقربا پروری کو محض ایک منفی لفظ بنا دینے سے فنکاروں کی محنت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
سارہ علی خان نے کہا کہ انہوں نے، جھانوی کپور اور اننیا پانڈے سمیت کسی بھی اداکارہ نے یہ فیصلہ خود نہیں کیا تھا کہ وہ کس گھرانے میں پیدا ہوں گی۔ ان کے مطابق کسی کے خاندانی پس منظر کو بنیاد بنا کر اس کی تمام تر کوششوں کو نظرانداز کردینا مناسب نہیں۔
اداکارہ نے اپنے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کے لیے فلمی دفاتر میں جاکر معاہدے طے کروانے یا لوگوں سے کردار دینے کی درخواستیں کرنے والا کوئی والد موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلمی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے پاس کوئی ایسا گاڈ فادر نہیں تھا جو ان کے لیے فلمیں حاصل کرنے کی خاطر سفارشیں کرتا۔
مزید پڑھیں:رونالڈو نے میسی کو پیچھے چھوڑ دیا، 2008 کا بیلن ڈی اور بہترین قرار
سارہ علی خان کے مطابق ان کا خاندانی پس منظر ایک طرف مواقع اور پہچان کا ذریعہ بنا، لیکن دوسری جانب اس سے وابستہ توقعات بھی زیادہ رہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اس معاملے کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس کے دونوں پہلوؤں کو تسلیم کرنا چاہیے۔









