اسرائیلی پارلیمنٹ(Israeli Parliment) میں نئی سیاسی مثال قائم ہوگئی جہاں ایک سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب ہوگیا۔
اسرائیل میں سابق یہودی پولیس افسر یوآو سیگالووٹز نے عرب قیادت والی اسلامی جماعت راعم میں شمولیت اختیار کرکے ملک کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، وہ جلد اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔
انہوں نے یہودی اکثریتی جماعت چھوڑ کر راعم میں شمولیت اختیار کی جس نے حالیہ انتخابات میں 8 نشستیں حاصل کی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ یہودی اور عرب مذہب اور نسل کے اختلافات کے باوجود مل کر سیاسی اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعوؤں کا امتحان ہے: حافظ نعیم الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ راعم کے رہنما منصور عباس عرب اور مذہبی ہیں جبکہ وہ یہودی اور سیکولر ہیں لیکن دونوں اسرائیلی شہری ہیں اور ملک کی ترقی کیلئے انہیں مل کر کام کرنا چاہیے۔
اسرائیل کی 20 فیصد آبادی فلسطینی عرب شہریوں پر مشتمل ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ انہیں ووٹ دینے اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کا حق حاصل ہے، تاہم عرب آبادی کے کئی علاقوں میں غربت، جرائم اور سرکاری وسائل کی کمی جیسے مسائل موجود ہیں۔
راعم کے رہنما منصور عباس نے بھی واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت نئی حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہے اور عرب و یہودی شہریوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے۔









