یمنی وزیر خارجہ ڈاکٹر افراء الزوبہ نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا داعش اور القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے، حوثی ملیشیا علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔
یمن میں گزشتہ چند ماہ کے دوران حوثی ملیشیا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان لڑائی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد صورتحال معمول پر آ گئی تھی تاہم اب دوبارہ شورش نے سر اٹھا لیا ہے، حوثی باغیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت شمالی علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔
یمن میں جاری لڑائی کے ساتھ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے خلاف بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ حوثیوں نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، فوجی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔
العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے یمنی وزیر خارجہ نے کہا کہ کہ حوثی ملیشیا مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے میزائل اور ڈرونز تیار کر رہی ہے، حوثی ملیشیا دہشتگرد گروہوں کیساتھ تعاون بھی کر رہی ہے۔
ڈاکٹر افراء کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی کارروائیاں عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو متاثر کر رہی ہیں، حوثیوں کا خطرہ اب یمن تک محدود نہیں، علاقائی اور عالمی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثی خطرے سے نمٹنے کیلئے یمنی حکومت نے امریکا اور یورپی یونین سے بات چیت کی ہے، اس کے علاوہ یمنی حکومت کے علاقائی شراکت داروں سے بھی رابطے ہے۔
ڈاکٹر افراء نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا کہ اس نے امن مذاکرات کے مختلف ادوار کو اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے اور فوجی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یمنی حکومت اور عالمی برادری طویل عرصے تک اس امید پر مذاکرات کرتی رہی کہ پُرامن تصفیہ ممکن ہے، تاہم حوثی ملیشیا نے ان کوششوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہتھیاروں اور فوجی صلاحیت میں اضافہ کیا۔
یمنی وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی عسکری صلاحیتیں بڑھیں تو مستقبل میں نمٹنے کی قیمت زیادہ ہو گی، امن مذاکرات سے قبل حوثی ملیشیا کو ہتھیارریاست کے حوالے کرنا ہوں گے۔
مزید پڑھیں:بالی وڈ کے معروف فلمساز سنجے گپتا 57 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
ان کا کہنا تھا کہ تعز میں حوثی ملیشیا کی جانب سے مبینہ زہریلی گیس کے حملے کیے گئے، حملوں کے بعد بعض افراد میں کیمیائی اثرات کی علامات رپورٹ ہوئیں۔









