بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’دل کرتا ہے خودکشی کر لوں، یہ میری آخری ویڈیو ہوسکتی ہے‘، مسٹر پتلو کی رو رو کر فیلڈ مارشل اور مریم نواز سے اپیل

پنجاب کے شہر سیالکوٹ(Sialkot) میں ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 2 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ مسٹر پتلو سمیت دیگر نامزد اور نامعلوم افراد کے خلاف درج کرکے 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد جبکہ 45 نامعلوم افراد کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔


درج ایف آئی آر کے مطابق ہفتے کی شام ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب جاری تھی جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور دیگر قیمتی انعامات دینے کا اعلان کرکے مدعو کیا گیا تھا۔ ان اعلانات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ تقریب میں پہنچ گئے۔

ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تقریب کے دوران مسٹر پتلو اسٹیج پر آئے اور شرکا کو فوری طور پر گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد لوگوں نے بیک وقت اندر جانے کی کوشش کی اور بھگدڑ مچ گئی۔ واقعے کے نتیجے میں عقیل نامی شخص موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں ایک اور شخص بھی دم توڑ گیا۔

مزیدپڑھیں:ایپل کا آئی او ایس 27.3 کا پہلا بِیٹا ورژن جاری کرنے کا اعلان

اپنے ویڈیو پیغام میں مسٹر پتلو کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعلقہ حکام سے این او سی حاصل کرنے کے بعد تقریب منعقد کی تھی۔ رش کے دوران پیش آنے والے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہجوم میں ایسا حادثہ پیش آگیا تو اس کا ذمہ دار انہیں کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ تقریب اپنی خوشیاں عوام کے ساتھ بانٹنے کے لیے منعقد کی تھی۔ تقریب میں ملنے والی سلامی کی رقم بھی عوام میں تقسیم کردی جبکہ ان کا مقصد غریب بچیوں کی شادیوں کا انتظام کرنا تھا۔

مسٹر پتلو نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو حادثے کے تناظر میں دیکھا جائے اور سارا ملبہ ان پر نہ ڈالا جائے۔ ان کے بقول میرا کوئی قصور نہیں، میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ ویڈیو پیغام کے دوران مسٹر پتلو متعدد مرتبہ آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد سب لوگ ان کے خلاف ہوگئے ہیں اور وہ اپنی ذہنی و جذباتی کیفیت بیان نہیں کرسکتے۔


انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ انہیں مار دیا جائے تو بھی وہ تیار ہیں لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خودکشی کا خیال آنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر ان کی جانب سے کوئی مزید ویڈیو سامنے نہ آئے تو اسے ان کی آخری ویڈیو سمجھا جائے۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد پولیس نے ٹک ٹاکر سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے 6 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

مسٹر پتلو کی ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہندی کی تقریب کے دوران عام شہریوں میں 2 کروڑ روپے تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک کار، 50 موٹر سائیکلیں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی تحائف دینے کی تشہیر بھی کی گئی تھی۔

دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے مطابق مسٹر پتلو کو ڈسکہ روڈ پر واقع فراز اسپورٹس اسٹیڈیم میں مہندی کی تقریب منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم مقررہ شرائط کی خلاف ورزی پر بعدازاں اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

مسٹر پتلو کا اصل نام انصر محمود ہے اور وہ ٹک ٹاک پر لائیو نشریات اور براہِ راست گفتگو کے ذریعے شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں پاکستان کے معروف اور زیادہ آمدن حاصل کرنے والے ٹک ٹاکرز میں شمار کیا جاتا ہے۔