واشنگٹن :امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے ٹھیک ایک روز قبل ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا کے 20 ہزار میل ان بیلٹس (Mail Ballots) کو الگ کرنے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے، جس سے ملک میں قانونی و سیاسی بحران کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا موقف اور سپریم کورٹ میں اپیل:
ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کیلیفورنیا میں بھیجے گئے ان 20 ہزار خطوط یا بیلٹس میں سے بیشتر ان افراد کے ہیں جو امریکی شہری نہیں ہیں اور ان کے پاس ووٹ ڈالنے کا قانونی حق موجود نہیں ہے۔ سولسیٹر جنرل ڈی جان سور (D. John Sauer) نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ ہنگامی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالنے والے افراد کے بیلٹس کو عام ووٹوں کے ساتھ شامل کر دیا گیا تو اس سے امریکی انتخاب کی شفافیت کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشکوک یا متنازع ووٹوں کی چھانٹی اور ان کو الگ رکھنا ایک معمولی اور قانونی طریقہ کار ہے، لہٰذا اعلیٰ عدالت فوری حکم جاری کرتے ہوئے ان بیلٹس کو پروسیس ہونے سے پہلے الگ رکھنے کی ہدایت دے۔
کیلیفورنیا انتظامیہ اور نچلی عدالتوں کا مؤقف:
دوسری جانب کیلیفورنیا کی ریاستی انتظامیہ، ڈیموکریٹس اور شہری حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کی صحت اور سچائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ریاست کا کہنا ہے کہ انتخابات کے اتنے قریب آ کر ہزاروں ووٹرز کی شہریت کی تصدیق کرنا ناممکن ہے اور یہ کارروائی قانونی ووٹرز کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کا ایک بہانہ ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل نچلی عدالتیں اور امریکی کورٹ آف اپیلز فار دی نائنتھ سرکٹ (9th Circuit) 1-2 کی اکثریت سے انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دے چکی ہیں۔ عدالتوں کا کہنا ہے کہ فہرست کی صداقت میں سنگین نقائص ہیں اور اتنے آخری وقت میں بیلٹس کو الگ کرنے کا حکم پورے انتخابی نظام پر انتہائی تباہ کن اور افراتفری کا باعث بنے گا۔
قانونی کارروائیاں اور سپریم کورٹ کا متوقع فیصلہ:
اس قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ نے مقامی انتخابی اہلکاروں کو سبپینا (Subpoenas) جاری کر دیے ہیں اور مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے ووٹ کے لیے رجسٹریشن کرانے والے افراد کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کا اعلان بھی کیا ہے۔
فی الحال یہ ہنگامی اپیل سپریم کورٹ کی جسٹس ایلینا کاگن (Justice Elena Kagan) کے پاس بھیجی گئی ہے، جو کیلیفورنیا کے ایمرجنسی امور کی نگرانی کرتی ہیں۔ جسٹس کاگن کیلیفورنیا کی ریاست کو اپنا جواب جمع کرانے کا وقت دے سکتی ہیں یا اس معاملے کو حتمی فیصلے کے لیے تمام نو ججوں کے پینل کو بھیج سکتی ہیں۔ پولنگ ڈے کے عین موقع پر اس تنازع نے پورے امریکہ میں سیاسی تناؤ کی فضا قائم کر دی ہے۔









