بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمان اور چین کے درمیان کرنسیاں بدلنے کا تاریخی معاہدہ سمیت 23 اہم منصوبے طے

بیجنگ/مسقط: عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے اہم اور تاریخی دورہ چین کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان معاشی و اسٹریٹجک تعلقات میں نیا باب روشن ہو گیا ہے۔ بیجنگ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ کرنسی سویپ (Currency Swap) معاہدے، 23 بڑے سرمایہ کاری کے منصوبوں اور 14 اسٹریٹجک تعاون کی دستاویزات پر حتمی دستخط کر دیے ہیں۔

سلطان ہیثم اور شی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط:
عمان نیوز ایجنسی (ONA) اور خلیجی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، بیجنگ کے صدارتی محل میں پیر کے روز منعقد ہونے والی وقار کی تقریب میں سلطنتِ عمان کے سربراہ سلطان ہیثم بن طارق اور چینی صدر شی جن پنگ خود موجود تھے۔

ان معاہدوں کی تقریب کا بنیادی مقصد دونوں ایشیائی قوتوں کے درمیان تجارت، مالیات اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک طویل المدتی اور پائیدار اقتصادی شراکت داری کا قیام ہے، جس سے خطے میں چین کا معاشی اثر و رسوخ اور عمان کا ویژن 2040مزید مضبوط ہوگا۔

کرنسی سویپ معاہدہ اور امریکی ڈالر پر انحصار کا خاتمہ:
اس پورے معاشی پیکیج کی سب سے اہم پیش رفت سینٹرل بینک آف عمان (Central Bank of Oman) اور پیپلز بینک آف چین (People’s Bank of China) کے درمیان طے پانے والا تاریخی کرنسی سویپ معاہدہ ہے۔

اگرچہ اس فنانشل ڈیل کی حتمی رقم، وقت کی مدت اور آپریشنل شرائط کو فی الحال راز میں رکھا گیا ہے، تاہم ماہرینِ معاشیات کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے اپنی قومی کرنسیوں (عمانی ریال اور چینی یوآن) کا براہِ راست استعمال ممکن بنانا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں پر غیر ملکی زرمبادلہ کا دباؤ کم ہوگا اور تجارتی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔

عمان انویسٹمنٹ اتھارٹی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 23 معاہدے:
دورے کے موقع پر بیجنگ میں “عمان چائنا بزنس فورم” کا انعقاد بھی کیا گیا، جس کے حاشیے پر عمانی انویسٹمنٹ اتھارٹی (OIA) نے چین کے ممتاز سرکاری و نجی اداروں، بینکوں اور بڑی کمپنیوں کے ساتھ 23 اسٹریٹجک شراکت داریوں پر شمولیت اختیار کی۔

ان معاہدوں اور میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MoUs) کے تحت طے پانے والے اہم شعبہ جات :
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اکانومی:
ڈیٹا سینٹرز، جدید سافٹ ویئر اور الگورتھم کی تیاری میں چینی ٹیکنالوجی کا تبادلہ۔

فضائی و خلائی ٹیکنالوجی (Space Technology):
خلائی تحقیق، سیٹلائٹ مواصلات اور جدید ایرو اسپیس پروجیکٹس میں دوطرفہ تعاون۔

سبز توانائی اور پائیدار ترقی (Green Investment):
گرین ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور متبادل انرجی کے بنیادی ڈھانچے میں چینی سرمایہ کاری۔

صنعتی سپلائی چینز:
عمان کی بندرگاہوں اور اقتصادی زونز کے ذریعے چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان سامان کی نقل و حمل کو تیز بنانا۔

اس عظیم الشان معاشی معاہدے سے نہ صرف عمان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا نیا سیلاب آئے گا بلکہ چین کو مشرقِ وسطیٰ اور عرب دنیا میں اپنی ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ (BRI) حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے میں بھی زبردست مدد ملے گی۔