اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ قانونی طور پر ون کانسٹی ٹیوشن کا قبضہ ہمارے پاس آچکا ہے۔ اور ہماری کوشش ہو گی کہ جلد از جلد اس عمارت کو ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں گرین بیلٹ پر تھانہ ہو یا کچھ اور، اب کہیں قبضہ نہیں ہونے دیا جائے گا جبکہ اسلام آباد میں بڑے بےرحمانہ طور پر قبضہ کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدے کے مطابق معاملے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی ہیں اور جس دن ہم قبضہ لینے جا رہے تھے اس دن بتایا گیا کہ ہم سے غلطی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے وعدہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں جتنی تجاوزات ہیں ہم انہیں خالی کروائیں گے جبکہ بہت ساری جگہوں پر پارکنگ بھی موجود ہے۔ اور ایک پارکنگ پلازے کا تو جلد افتتاح ہوجائے گا جبکہ مزید پارکنگ پلازے بھی بنائے جائیں گے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن کی دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے اور کابینہ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن کمیٹی کی رپورٹ آج کابینہ میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن کی تعمیر کے لیے ڈیویلپر کمپنی کو فائدہ دینے کے لیے قواعد میں نرمی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ ون کانسٹی ٹیوشن کی دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے کہ شفاف انداز میں دوبارہ نیلامی کی جائے۔ اور اس کا نام جعل سازی سے حاصل کیا گیا اس لیے نام کی تبدیلی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ ون کانسٹی ٹیوشن میں فراڈ پر وزیراعظم نے کمیٹی قائم کی تھی۔
احسن اقبال نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے اور جن لوگوں کی جمع پونجی ہتھیائی گئی، ان کی رقم واپسی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ جبکہ ون کانسٹی ٹیوشن میں جن لوگوں نے سرمایہ کاری کی انہیں رقم واپس کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عبدالحفیظ شیخ کی کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات احسن اقبال نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بہت اچھا کام کیا ہے اور نیب کو تحقیقات کی سفارش بھی کی ہے، جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ واضح ثبوت ہے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ ایک ہی شہر میں امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کھل کر جرائم بتائے گئے ہیں اور جے آئی ٹی کے کام کو سراہا گیا ہے۔ اب نیب بھی میرٹ پر تحقیقات کرے گا۔
مسلم لیگ ن کے دور میں ہی دو مرتبہ کارروائی کی گئی، طلال چوہدری
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ 20 سال تک یہ منصوبہ چلتا رہا اور اس دوران دو مرتبہ کارروائی مسلم لیگ ن کے دور میں ہی ہوئی ہے۔ اور مسلم لیگ ن کے دور میں ہی اس منصوبے کی شفاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلیٹ غیر قانونی طریقے سے فروخت کیے گئے۔ اور سہولت کاری کی وجہ سے لوگوں کو لوٹا گیا۔ تاہم اب نیب کو ذمہ داروں کے خلاف ریفرنس لانے کے لیے 3 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔
’اس میں بانی پی ٹی آئی کا فلیٹ بھی موجود ہے‘
طلال چوہدری نے کہا کہ نیب نے فلیٹ مالکان اپنی ملکیت کو قانونی ثابت کرنے کا موقع دیا تھا تاہم 7 سے 8 لوگوں نے اپنی ملکیت ثابت نہیں کی جن میں بانی پی ٹی آئی بھی شامل ہیں۔
سوال کیا گیا کہ ماضی میں جو لوگ اس تمام معاملے میں ملوث رہے کیا ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے جائیں گے، جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان لوگوں کے نام پہلے سے ہی ای سی ایل میں موجود ہیں خاص کر وہ جن کا اس میں اہم کردار ہے۔
مزید پڑھیں:مختصر لباس کے ساتھ دوپٹہ اوڑھنے پر متھیرا تنقید کی زد میں آگئیں
طلال چوہدری نے کہا کہ کسی کوبےدخل نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں متبادل فراہم کریں گے۔ لوٹنے والوں کا تو کوئی قصور نہیں ہے، یہ بیرون ملک سے آیا ہوا پیسے ہے اور لوگوں کے پاس کاغذات موجود ہیں۔









