اسلام آباد (نیوزڈیسک)اسلام آباد ویمنز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی صدر ثمینہ فضل نے کہا کہ معاشی صورتحال میں بہتری کے ساتھ حکومت کو معیشت کو فروغ دینے کے لیے اسٹارٹ اپس (نئے کاروبار) پر توجہ دینی چاہیے،سٹارٹ اپس ٹیکنالوجی کے زریعے معیشت کو فروغ دیتے ہیں اور نہ صرف مالکان بلکہ ملازمین اور شیئر ہولڈرز کے لیے سود مند ثابت ہوتے ہیں۔
یہ بات انہوں نے چھوٹے کاروباروں کی مالی ضروریات کوسٹریم لائن کرنے کے لئے قائم ایک نئی کمپنی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپس کو بیرون ملک منڈیوں تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے اور انکے لئے تجارتی رکاوٹوں کو محدود کرنا اور ان کی ترقی میں رکاوٹ بننے والی ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک سادہ اور بہتراکاؤنٹنگ ٹول کے زریعے خواتین کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔
ویمن چیمبر کی سابق صدرنائمہ انصاری نے کہا کہ اسٹارٹ اپ کو فروغ دینے والی پالیسیوں کے لیے بڑی رقم یا مراعات کی ضرورت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم ان خواتین کی مدد کریں گے جن کے پاس اکاؤنٹنگ تک رسائی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم خواتین کو ان کی تمام اکاؤنٹنگ ضروریات کو حل کرنے میں مدد دینگے۔
نئے قائم کردہ اسٹارٹ اپ میٹرک کی سی ای مینہ طارق نے کہا کہ اسٹارٹ اپس ملک کی امیج کو بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے انکی بھرپور سرپرستی کی جائے۔
ویمن چیمبر کا خواتین کی استعداد بڑھانے کے لئے سٹارٹ اپ سے معاہدہ








