اسلام آباد: (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپین پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق یورپین ارکان پارلیمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر بارے 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات غاصبانہ قرار دے دیے۔ یورپین پارلیمان نے انتباہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر، دو ایٹمی طاقتوں کے مابین انتہائی خطرناک فلیش پوائنٹ ہے،یورپین پارلیمان کے 14 ارکان کا یورپین کمیشن صدر، نائب صدر کو تفصیلی خط لکھا ہے ۔یورپین پارلیمان کے ارکان نے تیسری بار تین صفحات پر مشتمل خط 22 جولائی کو لکھا۔خط میں واضح کیا گیا کہ بھارتی مسلح افواج انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی حکومت و فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔بھارتی مسلح افواج کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔بھارت نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون کو انسانیت سوز کارروائیوں کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔ہندوستان نے قوانین کی آڑ میں کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق علمبرداروں کو گرفتار کیا۔یورپین ارکان پارلیمان نے خط میں لکھ اہے کہ بیشتر صحافی تحریک آزادی بارے رپورٹنگ کرنے پر پوچھ گچھ کیے لیے اٹھا لیے گئے۔کشمیری عوام کو چھاپوں، دھمکیوں یا جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے تمام بڑے شہروں میں گزشتہ سال سے انٹرنیٹ سروس مسلسل بند ہے۔بھارتی مسلح افواج کے مظالم نے خطے میں شورش کو ہوا دی، نتیجتاً نوجوان تحریک آزادی کا حصہ بنے۔مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ عسکری علاقوں میں شامل ہے۔یورپین ارکان پارلیمان نے یورپین کمیشن کے صدراور نائب صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے تحفظات کو بھارتی حکومت تک پہنچائیں۔بھارت بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ہندوستان، کشمیریوں کے خلاف تشدد، بدسلوکی اور امتیازی سلوک فوری طور پر بند کرے۔ہندوستان ضمانت دے، کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے گا
یورپین پارلیمنٹ کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہار








