بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بنی گالہ میں دوسرے صوبوں سے پولیس کی تعیناتی پر اسلام آبادپولیس کو مخمصے کا شکار

 اسلام آباد(نیوزڈیسک)بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان کی سکیورٹی کے لئے دوسرے صوبوں سے پولیس کی تعیناتی نے اسلام آبادپولیس کو مخمصے میں ڈال دیا ہے کیونکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ بنی گالہ میں تعینات پولیس کس کے ماتحت کام کررہی ہے۔اسلام آبادپولیس کے ذرائع نے ایک انگریزی اخبار کو بتایاکہ اس وقت بنی گالہ میں جہا ں سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائشگاہ ہے مجموعی طور پر 63پولیس اہلکاراپنے فرائض انجام دے رہے ہیں جن میںسے 57کا تعلق خیبرپختونخوا اور چھ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے یہ اہلکار کسی قانونی ڈھال یا اسلام آبادپولیس کی ریکوزیشن کے بغیر ڈیوٹیاں کررہے ہیں۔یہ اہلکار اسلام آبادپولیس کےان 155اہلکاروں اور افسران کے علاوہ ہیں جو بنی گالہ میں تعینات ہیں۔قوانین اور قواعدوضوابط کے تحت صوبوں یا جی بی اور آزادکشمیرسے پولیس وفاق میں صرف اسلام آبادپولیس کی درخواست پر ووفاقی حکومت کی ریکوزیشن پر بھجوائی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں نہ تو وزیرداخلہ نے صوبوں یا جی بی اور آزادکشمیر کو کوئی درخواست بھیجی اور نہ ہی وزارت داخلہ سے صوبوں کو پولیس فورس کے لئے کوئی ہدایات جاری ہوئیں۔بتایاجاتا ہےکہ اسلام آبادپولیس نے وزارت داخلہ کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لیاجائے اور معاملے کو حل کیا جائے کیونکہ بنی گالہ میں صوبوں اور جی بی کی پولیس کی تعیناتی سے کنفیوژن پیداہورہی ہے جس کے سنگین نتائج برآمدہوسکتے ہیں۔خط میں یہ بھی کہاگیاہےکہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہےکہ بعض صوبائی حکومتیں یہ تاثردے رہی ہیں کہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے تحفظ کے لئے صوبائی پولیس یا کانسٹیبلری اسلام آبادبھیج رہی ہیں۔خط میں کہاگیاکہ بعض صوبائی حکومتیں وفاقی پولیس کے انتظامی وآئینی امورمیں دخل اندازی کررہی ہیں ۔خط میں کہاگیاکہ صوبوں سے پولیس کی اسلام آباد میں تعیناتی کا کوئی جواز نہیں ہے اور انہیں ہر صورت متعلقہ صوبوں میں واپس بھیجاجائے۔