اسلام آباد(ممتاز نیوز)عمران خان کے چیف آف سٹاف،بغاوت کے مقدمہ میں زہرحراست شہباز گل نے عدالت کواپنے اوپرہونے والے تشدداورایس پی نوشیروان کی طرف سے دئیے جانے والےد ھوکے کی ساری تفصیلات بیان کردیں ،پیرکو شہباز گل کومزید جسمانی ریمانڈ کیلئے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیاگیا ،
شہباز گل نےعدالت کوبتایاکہ دوران حراست ایس پی نوشیروان میرے پاس آیااوربتایاکہ آپ کی ضمانت ہو گئی،مجھےفیصلہ کا سکرین شارٹ بھی دکھاکریقین دلایا کہ ضمانتی مچلکے جمع کرانےہیں اس لیے آپ کوساتھ لے جاناہے،ایس پی نے مجھےپرائیوٹ گاڑی میں بٹھایااورنامعلوم جگہ پرلے جاکرپچھلی رات جوکچھ کیاوہ آپ کے سامنے ہے آپ دیکھ لیں کہ میرے ساتھ کیاہواہےشہباز گل نے عدالت کوبتایاکہ میں گزشتہ رات سے بھوک ہڑتال پر ہوں ،
مجھ سے کسی کو ملنے نہیں دیا جا رہا، رات 12 لوگ کمرے میں آئے مجھے پکڑا اور زبردستی کیلا کھلا کر جوس پلایا۔ انہوں نے کہاہے کہ رات 3 بجے پھر 6 سے 7 لوگ آئے اور مجھے کھانا کھلانے کی کوشش کی گئی، 10سے 12لوگوں نے زبردستی باندھ کر میری شیو کی، میں مونچھیں نہیں رکھتا۔ لیکن میری مونچھیں چھڑوا دی گئیں
اورزبردستی ناشتہ دینے کی کوشش بھی کی گئی،شہباز گل کے اس بیان پرجج ملک امان نےکہاکہ اس کا یہ مطلب تو نہیں آپ بھوک ہڑتال پر چلے جائیں،اچھی بات ہے کہ ان کی صحت اچھی ہو گئی، دورانِ سماعت جج نے کہا اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ کدھر ہے اس کو دیکھ کر حکم دوں گا،عدالت کی ہدایت پر شہباز گل کے وکلا کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا،اسی دوران شہبازگل کے وکلاء کی ٹیم نے
ان سے پانچ وکالت ناموں پردستخط کرائے ،کمرہ عدالت سے شہباز گل کوسماعت شروع ہونے تک کے لیے بخشی خانہ منتقل کردیا گیا۔









