اسلام آباد(ممتازنیوز)پاکستان میں ڈیجیٹل لیبرپلیٹ فارمز میں حالات کار مسلسل تنزلی کا شکار، زیادہ ترکمپنیاں بہتر سہولیات دینے کے بنیادی معیارات پر پورا نہیں اترتیں۔یہ انکشات ایک حالیہ جائزہ رپورٹ میں کیا گیا۔
فیئر ورک فاونڈیشن، آکسفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ اور سینٹر فار لیبر ریسرچ ،پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ میں پاکستان میں موجود ڈیجیٹل لیبرپلیٹ فارمز میں حالاتِ کار کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پاکستان کی لیبر فورس کا دو فی صد پلیٹ فارم اکانومی سے بذریعہ انٹرنیٹ اور متعین جگہوں پر موجود مختلف سہولیات دینے والے اداروں سے وابستہ ہے ایک اندازے کے مطابق ملک میں پانچ لاکھ ورکرز متعین جگہوں پر موجود اداروں سے معاشی طور پر وابستہ ہیں لیکن اس سب کے باوجودان پلیٹ فارمزمیں حالات کار مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پہلی مرتبہ عارضی دورانیے کا روزگار فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز میں ورکرزکے حقوق اور حالات کار کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان میں مخصوص دورانیے کے روزگار اور مزدوری کی فراہمی کے لئے بہت سارے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کام کر رہے ہیں۔ ان میں اوبر (Uber)، کریم Careem))، فوڈ پانڈا (Foodpanda)، بائیکیا (Bykea)، دراز (Daraz)، چیتے (Cheetay)، ان ڈرائیور (InDriver) اورگھر پر (GharPar) شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں ان پلیٹ فارمزمیں سے صرف سات کے حالات کار کو پرکھاگیا ہے۔ یہ رپورٹ اسلام آباد اور راوالپنڈی کو فوکس کرتی ہے۔ اس رپورٹ میں فیئر ورک قوانین سے تقابل کے بعد یہ صورت حال سامنے آئی کہ سات کمپنیوں میں سے زیادہ ترکمپنیاں بہتر سہولیات دینے کے بنیادی معیارات پر پورا نہیں اترتیں۔ تمام پلیٹ فارمز نے مجموعی طور پر بہت کم سکور حاصل کیا ہے۔ گھر پر (GharPar)، اوبر (Uber)، اور فوڈ پانڈا (Foodpanda) نےایک ایک سکور حاصل کیا ہے ۔ باقی چاروں کمپنیوں یعنی چیتے ، کریم ، بائیکیا اور دراز نے اپنے ورکرز کے حالات کار کو بہتر بنانے کی اس دوڑ میں کوئی سکور حاصل نہیں کیا۔
ڈیجیٹل لیبرپلیٹ فارمز میں حالات کار مسلسل تنزلی کا شکار،بیشتر کمپنیاں بہتر سہولیات کے بنیادی معیارات پرپورا نہیں اترتیں،رپورٹ








