اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی آن سائٹ انسپکشن ٹیم آئندہ ماہ (ستمبر 2022) کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کے فیصلے کے لیےادارہ جاتی طریقہ کار کی مضبوطی اور قواعد و ضوابط کااندازہ لگایاجاسکے ۔ جمعہ کو اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ہاں، توقع ہے کہ FATF کی آن سائٹ ٹیم ستمبر 2022 کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گی اور ادارہ جاتی انتظامات، ناقابل واپسی قواعد و ضوابط کی عملداری کے بارے میں تصدیق کے بعد وہ اس سال اکتوبر میں ہونے والی اگلی پلینری کو آگاہ کرے گی تاکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا جاسکے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے جب ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملات دفتر خارجہ دیکھ رہا ہے تاہم ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کےآئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔ایف اے ٹی ایف کی آن سائٹ انسپکشن ٹیم تمام وزارتوں، متعلقہ محکموں، ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ملک کا دورہ کرے گی تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا یہ نظام اور طریقہ کار منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے مستقل بنیادوں پر پائیدار ہے یا نہیں۔نمائندے نے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے ہیڈ کوارٹرز کو سوالات بھیجے اور استفسار کیا کہ ایف اے ٹی ایف کی آن سائٹ انسپکشن ٹیم کب پاکستان کا دورہ کرے گی اور اس متوقع دورے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا کیا طریقہ کار ہوگاجس پر ایف اے ٹی ایف نے تحریری جواب دیتے ہوئے کہاکہ FATF کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے ایکشن پلان کے تمام یا تقریباً تمام نکات پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے اور ایک بار جب FATF یہ طے کر لیتا ہے کہ ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوا ہےتو وہ اس بات کی تصدیق کے لیے آن سائٹ دورہ کرتا ہے کہ ضروری قانونی، ریگولیٹری، اور/یا آپریشنل اصلاحات کا نفاذ جاری ہے او راس پر عمل درآمد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سیاسی عزم اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے، اگر سائٹ کے دورے کا مثبت نتیجہ نکلتا ہےتوایف اے ٹی ایف آئندہ اجلاس میں فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کرتی ہے۔
FATF آن سائٹ وزٹ ستمبر کے پہلے ہفتے میں متوقع








