بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملک کا سیاسی ماحول گرم، پی ٹی آئی کے منحرف ارکین کا تعلق کہاں سے ؟ ماضی میں کون سی جماعتوں کو چھوڑ کرتحریک انصاف میں شامل ہوئے؟روزنامہ ممتار کی تفصیلی رپورٹ پڑھیئے!

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف سے منحرف بیشتر ارکان قومی اسمبلی ماضی میں پیپلزپارٹی سے وابستہ رہے، ہر دور میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنا وجہ شہرت بنی، سیاسی ماحول مزیدگرم ہوگیا ۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے منحرف گروپ کے رہنما راجہ ریاض ماضی میں پانچ بار پی پی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اب پارلیمانی سیکرٹری تیل ہیں۔

متعدد بار ایوان میں اپنی حکومت کے خلاف دھواں دھار تقاریر کر چکے ۔ تونسہ سے تعلق رکھنے والے ایم این اے خواجہ شیراز این اے 171میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اس سے قبل (ق)لیگ کے ساتھ منسلک رہے ۔ 2018میں پی ٹی آئی سے منسلک ہوگئے ۔ تونسہ میں ان کا سیاسی اثر و رسوخ وزیر اعلیٰ پنجاب کی نسبت زیادہ سمجھا جاتا ہے تاہم وہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے نظر انداز کئے جانے کی شکایات کرتے رہے اور وزیر اعظم سے بھی اس حوالے سے گلے شکوے کرتے رہے ۔

جنوبی پنجاب سے حکومتی جماعت کے منحرف رکن قومی اسمبلی باسط بخاری 2002اور 2008میں (ق)لیگ کی طرف سے منتخب ہوئے جبکہ 2013میں وہ مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے تھے ۔ بعدازاں پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے بعد 2018ء میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی بنے ان کی بھی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کی تاریخ ہے ۔ ریاض مزاری کا بھی خاندانی سیاسی پس منظر پیپلزپارٹی سے رہا ہے وہ سابق نگران وزیراعظم میربلخ شیرمزاری کے صاحبزادے ہیں ۔ 2018ء کے الیکشن میں اس وقت خبروں کی زینت بنے جب انہوںنے آخری وقت پر مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ واپس کر کے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور جہانگیر ترین کے توسط سے تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔رانا قاسم نون 2013میں این اے 153 سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا مسلم لیگ (ن) سے ہوتے ہوئے اور 2018ء میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے وہ 2008ء میں مسلم لیگ (ق) سے قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں ۔

احمد حسن ڈیہڑ 2002سے 2012تک پیپلزپارٹی میں رہے مسلم لیگ (ن) کو بھی پیارے ہوئے ۔ 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ملتان سے رکن قومی اسمبلی بنے جہانگیر ترین نے ان کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا انھوں نے پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لئے بنی گالا میں دھرنا دیا تھا اور جہانگیر ترین کی براہ راست حمایت حاصل تھی ۔احمد حسن ڈیہڑ کا بھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اختلاف رہا اور قومی اور مقامی سطح پر سیاسی حوالے سے دونوں میں ہم آہنگی کا فقدان رہا ۔

نور عالم خان خیبر پختو نخوا سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ، ماضی میں پیپلز پارٹی سے بھی منسلک رہے قومی اسمبلی میں کئی بار حکومت کے خلاف تقاریر کیں مگر پارٹی قیادت اس کا ادارک نہ کرسکی ، پی ٹی آئی کے متعدد فیصلوں سے اختلاف رہا ۔پی ٹی آئی کے نواب شیر وسیر بھی پیپلز پارٹی سے منسلک رہے ہیں ،مسلم لیگ (ن)کے طلال چوہدری کی نا اہلی کی وجہ سے ان کی اہلیہ نے الیکشن لڑا جنہیں شکست دیکر نواب شیر وسیر اسمبلی میں پہنچے ۔تھر سے تعلق رکھنے والے رمیش کمار کی وجہ شہرت بھی سیاسی وفاداری تبدیل کرنا ہے 2002میں مسلم لیگ(ق)، 2013میں مسلم لیگ(ن)،2018میں پی ٹی آئی سے منتخب ہوئے ان کاجھکاؤپیپلزپارٹی کی طرف ہوسکتا ہے۔ سندھ ہاؤس میں موجود وجیہہ اکرم،غفار خان وٹو، نزہت پٹھان کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بعض رشتہ داروں کا تعلق دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں سے بتایا گیا ۔