بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانے کی کوشش کی: وزیر دفاع

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ’عمران خان نے نئے آرمی چیف کو جلسوں کا موضوع بنا کر متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔
خواجہ محمد آصف نے پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے اپنے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد ہماری آرمڈ فورسز کو مختلف نام دینے شروع کیے۔ کبھی انہیں جانور کہا تو کبھی وہ انہیں نیوٹرلز کہتے رہے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ ’عمران خان نے کہا ہے کہ یہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران خان کے بقول فوج کے تھری سٹار ٹاپ جنرلز میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو پی ڈی ایم کےرہنماؤں کو تحفظ دیں گے۔‘
واضح رہے کہ عمران خان نے اتوار کو فیصل آباد میں جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ ’نومبر میں نیا آرمی چیف آنے والا ہے۔ آصف زرداری اور نواز شریف اپنا فیورٹ آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔‘
اس کے ردعمل میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’پاکستان کی فوج کی کمٹنمنٹ ملک کا تحفظ کرنا ہے۔ وہ کسی سیاسی جماعت یا شخص کو تحفظ فراہم کریں گے تو یہ ان کے حلف کے خلاف ہو گا۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’عمران خان خود اپنے خلاف قائم کرپشن کے مقدمات میں تحفظ چاہتے ہیں۔ پاکستان کی افواج کسی بھی کرپشن کے تحفظ کی روادار نہیں۔‘
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔ جلسوں کا موضوع بنانا درست نہیں۔‘
اس سے قبل وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی پریس کانفرنس کر کے عمران خان کے بیان پر تنقید کی۔
حکومتی اتحاد کا عمران خان کے بیان پر مشترکہ ردعمل
دوسری جانب پیر ہی کو حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے جلسے میں ’افواج پاکستان کے حساس پیشہ ورانہ امور کو متنازع بنانے‘ کی مذمت کی ہے۔
حکومتی اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پوری قوم سیلاب سے جبکہ نفرت، انتقام اور تکبر میں ڈوبے عمران خان مسلح افواج سمیت قومی اداروں اور عوام سے لڑ رہے ہیں اور وہ سنگین بہتان تراشی کر رہے ہیں۔‘
’اس کا مقصد معاشی بحالی کے عمل کو متاثر کرکے پاکستان کو سری لنکا بنانا اور عوام کو فوج سے لڑانا ہے اور فوج کے ’رینک اینڈ فائل‘ میں تصادم کی راہ ہموار کرنا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’حکومتی اتحادی جماعتوں کا مکمل اتفاق رائے ہے کہ معیشت کی بحالی سمیت قومی مفادات کے تحفظ، مسلح افواج سمیت قومی اداروں اور ان کی قیادت کے آئینی احترام اور حدود کی پاسداری اور عوام بالخصوص سیلاب زدگان کی امداد، بحالی اور ریلیف کے عمل کو ہرگز متاثر نہیں ہونے دیں گے۔‘
’عمران خان بیان فوج کی قیادت کے خلاف ہرگز نہیں‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے پیر کو عمران خان کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’عمران خان نے کہا نواز شریف اور زرداری سکیورٹی رسک ہیں کیونکہ ان کی جائیدادیں اور اولادیں ملک سے باہر ہیں اور تمام تر مفادات ملک سے باہر ہیں ان کا بیان فوج یا فوج کی قیادت کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔‘