کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک )صوبائی دارلحکومت کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے دوران شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ نہ تھم سکا،ماہ ستمبر کے 6روز میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اب تک 10افراد جان سے چلے گئے.
منگل کے روز ڈکیتوں نے نیوکراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک اور شہری کی جان لے لی ۔سال 2022 میں شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اب تک 58 افراد جاں بحق اور 270 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
پہلے ڈاکو شہریوں سے انکی قیمتی اشیاء لوٹتے تھے تاہم اب وہ شہریوں کی زندگیاں لینے سے بھی دریغ نہیں کر رہے ،رواں برس شہر میں اسٹریٹ کرائم کی 56 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئی ہیں،19 ہزار سے زائد شہریوں سے موبائل فون چھینے گئے ہیں.
35 ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں اور 1487 گاڑیاں چھینی اور چوری کی جا چکی ہیں۔رواں برس گھروں میں ڈکیتیوں کے 300 سے زائد واقعات ہو چکے ہیں۔اسٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی کوئی واضح حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آ رہی.
پولیس کی جانب سے موٹر سائیکل اسکواڈ،اسٹریٹ کرائم سے نمٹنے کے لئیے اسکواڈ،شاہین فورس سمیت دیگر سیلز بنائے گئے ہیں تاہم اسٹریٹ کرائم کا جن پولیس قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈکیتوں نے ایک اور شہری کی جان لے لی۔گبول ٹائون تھانے کی حدود نیو کراچی سکیٹر 16-b فیض مسجد کے قریب ایزی شاپ پر ڈکیتی واردات کے دوران ملزمان کی فائرنگ سے 50 سالہ عباس ولد اسحاق نامی دکاندار زخمی ہو گیا،اسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیس۔
واقعہ ڈکیتی مزاحمت کے دوران پیش آیا،مقتول کے سر پر گولی لگی،ماہ ستمبر کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اب تک 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ اسٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی کوئی واضح حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آ رہی.
پولیس کی جانب سے موٹر سائیکل اسکواڈ، اسٹریٹ کرائم سے نمٹنے کے لئیے اسکواڈ، شاہین فورس سمیت دیگر سیلز بنائے گئے ہیں تاہم اسٹریٹ کرائم کا جن پولیس قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
پولیس کے اندر میرٹ اور اہل افسران کے بجائے پسند نہ پسند کی بنیاد پر افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے،ضلع کورنگی اور ویسٹ میں شہریوں کی ڈاکوؤں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے باوجود ایس ایس پیز کو تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ کورنگی میں چار ایس ایچ اوز کو ہٹا کر ایس ایس پی کو بچا لیا گیا جبکہ پولیس کے موجودہ نظام میں ضلعی پولیس ایس ایس پی ہی ضلعے میں ہونے والے جرائم کا زمہ دار ہے ،ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے کہ پی ایس پی افسران کو بچا کر رینکر افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے کراچی پولیس چیف بننے کے بعد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بڑھا ہے جبکہ اسٹریٹ کرائم کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے تاہم سندھ حکومت کی جانب سے اب تک کسی اعلیٰ افسر کو اسکی سیٹ سے نہیں ہٹایا گیا ہے۔









