اسلام آباد (سپیشل رپورٹ ) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی پانچ ماہ پہلے 10اپریل کو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سے مسلسل ایک ایسے امتحان سے گزر رہی ہے جس سے وہ اپنی 26سالہ تاریخ میںپہلے شائد قریب سے بھی نہیں گزری۔ عمران خان خود اس وقت اپنے خلاف نہ صرف دہشتگردی سمیت ایک درجن سے زائد فوجداری مقدمات کو بھگت رہے ہیں تو دوسری طرف ان پر چار مختلف مقدمات میں نااہلی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں جماعتیں 50سے 40سالہ اپنی سیاسی تاریخ رکھتی ہیں اور وہ ان سالوں میں بہت سے سیاسی مدوجزرسے گزر چکی ہیں جبکہ عمران خان اور تحریک انصاف پہلی بار یہ سارا مزہ چکھ رہے ہیں۔اس تمام تر صورتحال پر نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ پاکستان سے باہر بیٹھےلوگ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کا پورا پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھی عمران خان اور تحریک انصاف ہی زیر بحث ہیں کہ اسے پہلے کڑے امتحان سے نکلنے اور مقتدر قوتوں کی طرف سے انہیں جس ’’ لٹس ٹیسٹ ‘‘ میں ڈالا گیا ہے کیا وہ ان کی توقعات کے برخلاف سرخرو رہیں گے یا نہیں۔ عمران خان کو معلوم ہے کہ جن قوتوں نے انہیں اقتدار سے باہر کیا ہے وہ آسانی سے ان کی واپسی نہیں ہونے دیں گی اور خود یہ بات کر رہے ہیں کہ یہ قوتیں ٴٴ مائنس ونٴٴ کے فارمولے پر کام کررہی ہیں اور انہیں کھیل سے باہر کیا جائے گا ، عمران خان کےخلاف نااہلی کے ریفرنس اور مقدمات ہیں جو اس وقت الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور ان کو جلد نمٹانے کی کوششیں بھی نظر آتی ہیں ، عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میںممنوعہ فنڈنگ اور توشہ خانہ ریفرنس اور ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف بیان پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کے علاوہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی طرف سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور اسلام آباد کے آئی جی اور ڈی آئی جی کو دھمکیوں کی بنیاد پر قائم ، دہشتگردی کے مقدمہ میں بھی اگر کوئی بھی عدالت عمران خان کو مجرم قرار دیتی ہے تو پھر ان کی نااہلی ہو سکتی ہے۔ تاہم 10اپریل کے بعد عمران خان کے حق میں اٹھنے والی ملک گیر عوامی ہمدردی کی لہر میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔75سالہ ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت بھی نظر آتی ہے کہ تحریک انصاف جسے ٴٴ ممی ڈیڈی ٴٴ پارٹی قرار دیا جاتا تھا، 5ماہ سے نہ صرف ارکان پارلیمنٹ بلکہ ہر سطح پر پارٹی نے ہر طرح کی سختیوں اور مشکلوں بالخصوص 25مئی کو اسلام آباد کیلئے عمران خان کی کال کے موقع پر کی جانیوالی مزاحمت سے ہر کسی کو بتا دیا کہ تحریک انصاف ایک باقاعدہ سیاسی قوت میں تبدیل ہو چکی ہے۔حالانکہ لانگ مارچ اسی لحاظ سے ناکام ہوا کہ یہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا۔ملک کی سیاسی تاریخ میں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ پی ٹی آئی اور اس کے لیڈر کو جسے 44 ماہ کے اقتدار میں ایک سخت اپوزیشن اور میڈیا کا سامنا تھا اور جس کو مہنگائی ، بیڈگورننس ، کرپشن سمیت درجنوں الزامات کا ہر وقت سامنا تھا اور جونہی یہ پارٹی اقتدار سے محروم ہوتی ہے تو عوام اس باقاعدہ کال نہ دینے کے باوجود اس کی حمایت میں باہر نکل آتے ہیں جن قوتوں کا خیال تھا کہ عوام کی واضح اکثریت عمران خان کو ایک ناکام حکمران اور چور ڈاکو مان چکی ہے اور اگر اس نے اقتدار سے محرومی کے بعد عوام کا سامنا کرنے کی کوشش کی تو اسے گندے انڈے اور ٹماٹر پڑیں گے لیکن جو کچھ 10اپریل کے بعد ہوا اس نے ثابت کر دیا کہ عمران خان نے ہمیشہ سے پاکستانی عوام کے اندر امریکہ کے خلاف پائی جانیوالی نفرت جو پی پی پی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور فوجی حکومتوں بالخصوص جنرل ضیائ الحق اور جنرل پرویز مشرف کو حاصل امریکی حمایت کے باعث پائی جاتی تھی اسے اپنے امریکہ مخالف بیانیہ کو بنیاد بنا کر کامیابی سے اپنے حق میں موڑ چکے ہیں اور جونہی عمران خان اقتدار سے باہر ہوئے عوام کی اکثریت نے اسے اپنے معاملات میں امریکی مداخلت قرار دیتے ہوئے کراچی ، لاہور سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے اکثر شہروں میں اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور یہ سب کچھ بعض قوتوں کے اندازوں کے برخلاف تھا ان کے لئے تو حیران کن تھاہی لیکن جس کے حق میں ہو رہا تھا وہ بھی انگلیاں دانتوں میں دبائے دیکھ رہا تھا کہ یہ کیا معجزہ ہو گیا۔10اپریل سے 10ستمبر تک ان 5مہینوں میں وہ ساری قوتیں جوپاکستان میں نہ صرف حکومتیں بنانے بلکہ سیاسی جماعتوں کو بنانے بگاڑنے میں بھی جن کا ہمیشہ سے عمل دخل رہا ہے اور تحریک انصاف کے اوپر جو الزام اپوزیشن سب سے زیادہ عائد کرتی رہی کہ اس کی 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک رسائی انہی قوتوں کی مرہون منت ہے لیکن یہ قوتیں 10اپریل کے بعد سے ابتک نہ صرف تحریک انصاف کے اندر کوئی بڑا ٴٴشگافٴٴ ڈالنے میں بلکہ نہ ہی عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے آگے کوئی بند باندھنے میں کامیاب ہوسکی ہیں جبکہ عمران خان اس پورے عرصہ کے دوران آگے سے آگے جاتے ہوئے ہی نظرآئے پنجاب میں بزدار حکومت کے خاتمہ کے بعد ٟنٞ لیگ کے پی ٹی آئی کے منحرفین کی مدد سے پنجاب کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی یہی گمان کیا گیا۔ کہ اب پنجاب میں پی ٹی آئی کے ارکان بالخصوص جنوبی پنجاب والے تو یقیناً ہمیشہ کی طرح اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہونے کو ترجیح دیں گے۔ لیکن یہ گمان بھی گمان ہی رہا اور پنجاب میں 10اپریل سے پہلے پہلے جو پھل جہانگیر ترین اور علیم خان نے پی ٹی آئی کے درخت سے توڑنے تھے توڑ لئے اور 20منتخب اور 5مخصوص نشستوں والے منحرف ارکان کے بعد تمام کوششوں کے باوجودپی ٹی آئی کے کسی رکن کو اپنی وفاداری تبدیل کرنے پر مجبور نہ کرسکے یہ بھی واضح ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے ارکان کی کسی نظریہ کے ساتھ پختہ وابستگی نہیں یہ اس عوامی ردعمل کا خوف تھا جو عمران خان نے منحرف ارکان جن کو وہ ٴٴلوٹےٴٴ قرار دیتے تھے کیخلاف عوام میں بھر دیا تھا۔ کسی رکن کو وفاداری تبدیل کرنے کی جرات نہ ہوئی یقیناً پی ٹی آئی کے چند نہیں بہت سے ارکان جو پہلے ٟنٞ لیگ کے ٹکٹ کیلئے اندر ہی اندر ٟنٞ سے پیار کی پینگیں بڑھا رہے تھے اپنی وفاداریاں تبدیل کرنا چاہتے تھے لیکن 10اپریل کے بعد تبدیل شدہ زمینی حقائق نے پنجاب کے بڑے بڑے سیاسی خانوادوں جن کو یہ زعم تھا کہ وہ چاہے کہیں چلے جائیں وہ پارٹی کے نہیں پارٹی ان کی مرہون منت ہے انہیں بھی عوام میں عمران کو حاصل حمایت کی وجہ سے اس زعم میں کوئی فیصلہ کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ پنجاب میں کئی ماہ کی قانونی جنگ کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کو بالآخر عدالت سے اپنے منحرف ارکان کے خلاف فیصلہ حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی اور اس کے بعد 20حلقوں میں ضمنی انتخابات کا مرحلہ آیا تو پی ٹی آئی کو 20 میں سے 15نشستوں پرکامیابی ملی جن حلقوں میں ضمنی انتخابات تھے وہاں پر عمران خان کے بڑے بڑے جلسے بھی تجزیہ نگاروں کی سوچ اور رائے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ لیکن جب 17جولائی کا سورج ڈھلا اور عوامی فیصلے سامنے آئے تو وہ سب کی سوچ کے برعکس تھے اور پی ٹی آئی نے 20 میں سے 15نشستیں جیت کر پنجاب میں نہ صرف اپنا کھویا ہوا اقتدار واپس لیا بلکہ شہباز شریف حکومت پر بھی دبائو بڑھایا دیا تو اسی دوران پیپلزپارٹی اور ٟنٞ لیگ نے اپنے بعض اتحادیوں خاص طور پر ایم کیو ایم کے دبائو سے نکلنے کے لئے 2مخصوص اور 9 دیگر حلقوں سے پی ٹی آئی کے منتخب ارکان کے استعفے راجہ پرویز اشرف سے منظور کرانے کا نوٹیفکیشن کرالیا ان 9حلقوں میں پی ٹی آئی کے عام امیدوار بہت تھوڑے فرق سے کامیاب ہوئے تھے حکومتی اتحادی جماعتوں نے جمع تفریق کر کے یہ یقین کر لیا کہ اگر ضمنی انتخاب میں ان کا ایک امیدوار ہو گا تو وہ 2018 میں ملنے والے ووٹوں کو ملا کر با آسانی پی ٹی آئی کو شکست دے کر 9میں سے 7ٙ6حلقے لازمی جیت لیں گے ابھی 13 جماعتی اتحادی قائدین کے ان اندازوں پر بننے والے امیدوں کے محل کھڑے بھی نہیں ہوئے تھے ، عمران خان نے تمام 9 حلقوں سے کھڑے ہونے کا اعلان کر کے انہیں ایک اور امتحان سے دوچار کر دیا اور پھر عمران خان اور پی ٹی آئی کے تمام تر چیلنج کے باوجود 13جماعتی اتحاد کا کوئی مرکزی رہنما کسی حلقے سے عمران خان کے خلاف امیدوار بن کر سامنے نہ آ سکا۔اسی دوران عمران خان کے چیف آف سٹاف ڈاکٹر شہباز گل ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ایسی انتہائی نامناسب باتیں کر دیتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اس گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے خلاف ملک دشمنی کے الزامات پر مبنی ایک بھر پور مہم چلا کر بھی عمران خان کو دبائو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور شہبازگل پر ہونیوالے مبینہ تشدد پر بھی تحریک انصاف اور عمران خان خاصے برہم ہو گئے۔ اپنے ایک جلسہ عام میں اپنی شدید برہمی میں احتیاط کا دامن چھوڑ دیتے ہیں ، آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو شہبازگل پر تشدد اور ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو تشددکے باوجود پولیس کو ان کا مزید 2روزہ ریمانڈ دینے پر کھری کھری سنا دیتے ہیں اور حکومت کواپنے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ بنانے تو دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ کو ماتحت عدلیہ کی جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کی کارروائی کا موقع فراہم کیا یہاں سے یہ سارا کھیل نیا موڑ اختیار کرتا ہے ایک طرف الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے ہر روز نئے نئے نوٹس اوردوسری طرف عمران خان نے اپنے عوامی جلسوں میں کھل کر مقتدروں کو دوبارہ تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیتے۔ اس کے بعد بقول عمران خان کے عمران مائنس ون فارمولا بنایا گیا ہے۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ کے نوٹس پر عمران خان پیش ہوئے عمران کی طرف سے غیر مشروط معافی نہ مانگنے اور ان کے جواب کو عدالت نے رد کر کے انہیں دوبارہ جواب جمع کرانے کا موقع دیا تاہم عمران خان نے ایک بار پھر معافی مانگنے سے احتراز کیا تو عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ،اس عدالتی کارروائی پر عمران خان کے وکلائ اور پی ٹی آئی کے بعض سینئر رہنمائوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ اگر عمران خان عدالت سے غیر مشروط معافی طلب کرتے تو انہیں معافی کے باوجود توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر سزا دے دی جاتی اور اس طرح ان کی نا اہلی کی راہ ہموار ہو جاتی اپنے اس موقف کی حمایت میں وہ عدالت سے فرد جرم عائد ہونے کے فوری بعد ملک بھر میں ہونے والے 13ضمنی انتخابات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پیش کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کیوں کہ عمران نے عدالت سے معافی نہ مانگ کر ان کے منصوبے کو مبینہ طور پر ناکام بنا دیا تھا۔عمران خان نئے انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ یہی مطالبہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پی پی پی اس وقت کر رہی تھیں جب عمران خان اقتدار میں تھے اس وقت وہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی بات کرتے تھے توآج پی ڈی ایم موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک اقتدار نہ چھوڑنے کی بات کر تی ہے۔ ایک ماہ پہلے تک جب ملک میں بارشوں اور سیلاب سے یہ صورتحال نہیں تھی شہبازشریف حکومت دبائو کا شکار نظرآتی تھی اور حکومت کے اندر سے بھی مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی اور دیگر مسائل کی وجہ سے انتخابات کی طرف جانے کی آوازیں اٹھ رہی تھیں لیکن بارشوں اور سیلاب سے ملک کے بہت بڑے حصے کے متاثر ہونے سے اس سارے منظرکو بھی تبدیل کر کے رکھ دیااور اب انتخابات ہونے کا کوئی امکان نہیں تاہم آنے والے چند ہفتے ممکن ہے نہ صرف عمران خان بلکہ پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے۔ عمران خان اگرٴٴمائنس ون فارمولاٴٴ کے تحت نااہل ہو جاتے ہیں تب بھی پارٹی پر ان کی گرفت تو رہے گی بلکہ وہ کسے پارٹی چلانے کیلئے اپنا جانشین بناتے ہیں اور کیا اسے پارٹی کے دوسرے رہنما یا نچلی سطح تک کارکن قبول کرتے ہیں یا نہیں یہ فیصلہ بھی پارٹی پر اثر انداز ہو سکتا ہے خاص طور پر پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی جن کے بارے میں بہت سے پارٹی رہنما کئی بار سوال اٹھا چکے ہیںاگر وہ عمران کے جانشین بنتے ہیں تو ان کی قیادت کو شائد بہت سے لیڈر ماننے پر تیار نہ ہوں لیکن دوسری طرف اگر انہی حالات سے دوچارن لیگ پر نظر دوڑائی جائے تو نوازشریف کی قیادت سے محروم ہونے کے باوجود گزشتہ سالوں میں بہت سی کوششوں کے باوجود طاقتور قوتیں ن لیگ کے بہت سارے لیڈروں کو جیلوں میں ڈالنے اور انہیں مسائل سے دوچار کرنے کے باوجود ن لیگ میں کوئی دراڑ پیدا نہیں کرسکی تھیں اب سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اور نچلی سطح تک اس کے رہنما ن لیگ جیسے مسائل اور تکالیف کا سامنا کر سکیں گے اور اگر تحریک انصاف 10اپریل کے بعد سے اب تک 150دنوں میں جن امتحانوں سے گزری ہے اس مرحلہ سے بھی کامیابی سے نکل گئی اور عمران خان کی ممکنہ نااہلی کے باوجود پارٹی پر ان کی گرفت اسی طرح مضبوط رہتی ہے اور پارٹی اندرونی خلفشار کا شکار نہیں ہوتی تویہ پی ٹی آئی کے لئے بڑی اطمنان بخش بات ہو گی۔
عمران خان کی ممکنہ نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کا اصل امتحان شروع ہوگا








