راولپنڈی(فیصل اظفر علوی سے)گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر خاتون ڈاکٹر کے مریضوں کا خون پینے کی جعلی خبر نے مذکورہ ڈاکٹر کو شدید ذہنی دباؤ کی حالت سے دوچار کردیا ہے۔اس حوالے سے غلط خبر کا نشانہ بننے والی ہولی فیملی کی ڈاکٹر یسریٰ کے والد ثاقب حفیظ نے ڈیلی ممتاز ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ جھوٹی خبر سے ہماری زندگی اجیرن ہو گئی ہے اور بے گناہی ثابت ہونے کے باوجود پورا خاندان صدمے سے نہیں نکل پا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی اکلوتی اولاد کو بڑی چاہ سے ڈاکٹر بنایا تاہم اس جھوٹی خبر سے ’میری بیٹی شدید اذیت میں ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ اس خبر کی تردید اور حکام کی جانب سے وضاحتوں کے باوجود اُن کی بیٹی ’زندگی کی طرف واپس نہیں لوٹ پا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم جس کرب، تکلیف اور دکھ سے گزر رہے ہیں یہ بتایا نہیں جا سکتا۔ بیٹی کے حوالے سے اس افواہ پر مبنی ویڈیوز اور پوسٹیں تو لاکھوں لوگوں نے دیکھیں اور پڑھیں مگر اس کی تردید اور اس پر معذرت پر کسی نے کم ہی توجہ دی ہے۔‘’میری بیٹی کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ وہ جب کمرے سے باہر نکلتی ہے تو پوچھتی ہے کہ پاپا آج میرے بارے میں سوشل میڈیا پر کیا چھپا۔‘ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اس من گھڑت خبر کے سامنے آنے کے بعد قائم کردہ انکوائری کمیٹی نے اسے افواہ اور جھوٹ قرار دیا ہے جبکہ اس حوالے سے شکایت کرنے والا شخص بھی کبھی انکوائری کمیٹی میں پیش نہیں ہوا۔گزشتہ ہفتے بعض مقامی اخباروں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر تصدیق یہ خبر اپنے پلیٹ فارمز پر شیئر کی تھی کہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر مریضوں کو لگائے جانے والے کینولا سے خون پینے کی عادی ہیں۔واضح رہے کہ ثاقب حفیظ کی ڈاکٹر بیٹی راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ہاؤس جاب کر رہی تھیں جب ان کے حوالے سے یہ جھوٹی خبر پھیلائی گئی جس نے گذشتہ دنوں پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی فیک نیوز تھی جس نے نہ صرف ایک لڑکی کی زندگی بلکہ ان کے پورے خاندان کو ذہنی طور پر بُری طرح متاثر کیا ہے۔
خون پینے کی جھوٹی خبر سے زندگی اجیرن ہو گئی،والد ڈاکٹر یسریٰ








