اسلام آباد: جاپان کی ہائی ٹیک کمپنی کے عہدیداران نے وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق سے اہم ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں واکاکو ساکورائی، تاکاشی ہوریوچی، تارو کانازوا،یوجی سوچیا اورکانگو ہایاشی شامل ہیں۔امین الحق نے کہا کہ جاپان کی مخلتف کمپنیوں کو 2030 تک 8 لاکھ آئی ٹی ہنر مند درکار ہیں۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انٹرنیٹ آف تھنگس کے شعبے میں 2 لاکھ 70 ہزار ہنرمنددرکار ہیں۔
پاکستانی ہنرمندوں کو جدید آئی ٹی تربیت اور جامعات میں مراکز کھولنے پر گفتگو ہوئی۔جاپانی ماہرین پاکستانی ہنرمندوں کو تربیت دیں اور پاکستانی کمپنیوں سے جوائنٹ وینچر بنائیں۔
پاکستان میں 5 ہزار آئی ٹی کمپنیاں, 3 لاکھ سے زائد ہنرمند اور سالانہ 20 ہزار گریجویٹس بن رہے۔ربیت فراہمی کیلئے جاپانی کمپنیاں اسلام آباد کی طرح کراچی و لاہور میں بھی مراکز قائم کریں۔پاکستان و جاپان کا آئی ٹی کے شعبے میں اشتراک دونوں ممالک کیلئے نہایت سودمند ہوگا۔پاکستان کا ٹائم زون، انگریزی لب و لہجہ اور آئی ٹی میں مہارت عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے۔
جاپانی وفد نے کہا کہ وزارت آئی ٹی کے تعاون کے بغیر پاکستانی آئی ٹی ماہرین کا انتخاب ممکن نہیں۔پاکستانی آئی ٹی و ٹیلی کام انجینئرز کی قابلیت کا دنیا بھر کی طرح جاپان بھی اعتراف کرتا ہے۔پاکستانی ہنر مندوں کو جدید تربیت کے ساتھ تمام مراعات و پرکشش تنخواہوں کی پیشکش کی جائے گی۔









