بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جس شخص کو اپنا نہیں پتا وہ انقلاب لانے کی باتیں کیسے کر سکتا ہے؟ شرجیل میمن  

کراچی(ممتازنیوز) سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جس شخص کو اپنا نہیں پتا وہ انقلاب لانے کی باتیں کیسے کر سکتا ہے؟
شرجیل انعام میمن نے عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنے 4 سالہ دور حکومت میں سندھ فتح کرنے کے خواب دیکھتے رہے پر ناکامی ان کا مقدر بنی، عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں سندھ کے لوگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، انہوں نے سندھ کے تین اسپتال وفاق کے کنٹرول میں دینے کی سازش کی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ سے میڈیکل کالجز میں داخلوں کا اختیار چھیننے کی واردات کی، عمران خان نے سندھ کے جزیروں پر قبضہ کر کے اپنے سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے کی کوشش کی، حالیہ بارشوں اور سیلاب سے سندھ میں لاکھوں معصوم لوگ مدد کے لئے پکار رہے تھے پر عمران خان نے ان کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مدد تو نہیں کی لیکن عمران خان کی پنجاب حکومت نے متاثرین کا امدادی سامان پنجاب بارڈر پر لوٹ کر ایف آئی آر درج کروا دی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت وزیر اعلیٰ سندھ، پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز، ایم این ایز روز اول سے سیلاب متاثرین کی خدمت میں موجود رہے ہیں، 3 مہینے تک انقلاب خان کو سندھ کے متاثرین کے لئے درد نہیں جاگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شخص جلسے جلوس اور کانسرٹ کانسرٹ کھیلتا رہا ہے، عمران خان انقلاب نہیں ملک میں خون خرابا کروانا چاہتے ہیں، انقلاب لانے کے لیے پنجاب اور کے پی کے میں اپنے کارکنان سے حلف لے رہا ہے، ان کو اپنے کارکنوں کی وفاداری پر اعتماد نہیں، ڈرپوک کہتا ہے کہ ہر ضلع سے 5 ہزار لوگوں کی یقین دہانی کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین اور اداروں کو تو بلیک میل کرتا رہا ہے، اب اپنے ایم پی ایز اور کارکنوں کو بھی بلیک میل اور لوگ لانے کی دھمکیاں دے رہا ہے، ایک طرف کہتا ہے کہ پی ٹی آئی اسمبلیوں میں کسی صورت میں واپس نہیں جائے گی، کل ان کے ایم این ایز نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی سے ان کے استعفے سیاسی چال تھی،
شرجیل میمن نے کہا کہ آج بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کو بشریٰ بی بی نے موبائل پر دکھایا کہ کتنی پبلک عمران خان کے لئے سڑکوں پر ہے، جس شخص کو اپنا پتا نہیں وہ انقلاب لانے کی باتیں کیسے کر سکتا ہے؟
واضح رہے کہ کچھ دیر قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات کی جس کے دوران انہوں نے کہا کہ آڈیو لیکس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کو اخلاقی طور پر مستعفی ہونا چاہیے تھا، آڈیو لیکس سے ثابت ہوا کہ یہ ن لیگ اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے کسی صورت پیش نہیں ہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ن لیگ سے مل کر حلقہ بندی کی، چیف الیکشن کمشنر اور جسٹس فائز عیسی سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سیاسی انجینئر نگ کرنے والوں کا آلہ کار ہے۔
عمران خان نے کہا اوورسیز پاکستانیوں کو سیاسی عمل سے دور کیا جا رہا ہے، الیکشن رولز میں اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے ترمیم ہوئی تو چیلنج کرینگے، تحریک انصاف کی وجہ سے سمندر پار پاکستانیوں کی سیاسی جماعت میں شمولیت پر پابندی لگ رہی ہے، اوورسیز پاکستانی اتنے ہی برے لگتے ہیں تو ان سے زرمبادلہ بھی نہ لیں؟
ان کا کہنا تھا کہ ای وی ایم روکنے میں مرکزی کردار چیف الیکشن کمشنر کا تھا، الیکشن کمیشن سے پوچھتا ہوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ کیسز کا کیا بنا؟ شفاف الیکشن نہ ہوئے تو جو ہو گا ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور نیب سربراہ کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے غیر جانبدار ہونے کی گارنٹی نیوٹرلز نے دی تھی، ڈسکہ الیکشن کے بعد پتا چلا کہ گیم ہی کوئی اور ہو رہا ہے، سو فیصد یقین ہے کہ مجھے نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں کسی صورت واپس نہیں جائیں گے، پہلے دن سے کہا ہماری اپوزیشن کریمنل ہے، سائفر کو پھر زندہ کرنے پر حکومت کا مشکور ہوں، سائفر میں واضح لکھا ہے کہ عمران خان کو ہٹایا جائے، سائفر سے فائدہ اٹھانے والے اس کی تحقیقات کیسے کر سکتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ چیلنج کرتا ہوں کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، ضمنی الیکشن میں جتنی بھی دھاندلی کر لیں ہم ہی کامیاب ہونگے، لانگ مارچ زیادہ دور نہیں ہے، لانگ مارچ کیلئے پوری تیاری سے آرہے ہیں، پہلے ہمیں پتا نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا، عوام کا سمندر لانگ مارچ میں آئے گا جسے کوئی نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد اندرون سندھ میں سب سے بڑا انقلاب آئے گا، سکھر گیا تو لوگوں کے ردعمل سے لگا جیسے کشمیر آزاد ہو رہا ہو، اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی اب کامیاب نہیں ہو سکتی، سندھ کا سیلاب پیپلز پارٹی کو بہا کر لے گیا ہے، تحریک عدم اعتماد کے بعد ٹی وی دیکھ رہا تھا نہ ہی موبائل، کرکٹ دور کی ٹریننگ ہے کہ میچ ہارنے کے بعد ٹی وی دیکھو نہ اخبار پڑھو۔
عمران خان نے کہا کہ بشری بی بی نے مجھے اپنے موبائل پر دکھایا کہ کتنی عوام سڑکوں پر ہے، ٹی وی پر بلیک آئوٹ تھا، سوشل میڈیا پر عوام دیکھ کر حیران رہ گیا۔