بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ماحولیاتی شدتوں کے صحت پر اثرات” کے موضوع پرمیڈیا ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد

اسلام آباد(فیصل اظفر علوی سے)گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سینٹر کے زیر اہتمام میڈیا ٹریننگ ورکشاپ میں شریک ماہرین نے ملک کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے تسلسل سے متعلق مسائل کی حقائق پر مبنی اور فعال ماحولیاتی رپورٹنگ پر زور دیا۔ گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سینٹر (جی سی آئی ایس سی) نے این آئی ایچ، پی اے ایم آئی اور انوائرمنٹ جرنلسٹس کی ایسوسی ایشن (ای جے اے ) کے تعاون سے “ماحولیاتی شدتوں کے صحت پر اثرات” کے موضوع پر دو روزہ میڈیا ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ہیڈ آف ایگریکلچر اینڈ کوآرڈینیشن، جی سی آئی ایس سی ڈاکٹر عارف گوہیر نے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جسے میڈیا میں سیاسی خبروں کے مقابلے میں غیر ترجیحی ایجنڈے کے طور پر لیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موثر اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے ماحولیات سے متعلق مضبوط پیغام دینے کے لئے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تمام شرکاء سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس ورکشاپ سے حاصل کردہ علم کو قوم کی تعمیر اور انسانی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ ورکشاپ کے دوسرے دن مختلف موضوعات پر تین تکنیکی سیشن منعقد کیے گئے جن میں مون سون کی پیشین گوئی، برازیل میں موسم اور آب و ہوا کی پیشن گوئی اور پروجیکشن اور میڈیا براڈکاسٹنگ، امریکہ میں میڈیا کے لیے سائنس کمیونیکیشن، پاکستان میں گلیشیئر کی تبدیلیوں کا ابلاغ، ہیٹ ویو اور موافقت کی حکمت عملی، انفوڈیمک۔موسمیاتی تبدیلی اور صحت، انسانی صحت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار، اور اصطلاحات کے درست استعمال پر میڈیا رپورٹنگ شامل تھے ۔ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) کی چیئرپرسن رینا سعید خان نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بنی نوع انسان کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے جبکہ ایک بار جب ماحولیاتی نقصان حد سے تجاوز کر جائے گا تو وہ ناقابل تلافی ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور ماحولیاتی مسائل کی نوعیت اور ماحولیات پر ان کے خطرناک اثرات کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں کے ساتھ بات چیت کرتے رہنا چاہیے۔