لاہور (شوبز ڈیسک) اسٹار آف دی میلینیئم کا اعزاز حاصل کرنے والے بھارتی گلوکار، اداکار، پروڈیوسر، ٹی وی میزبان اور سابقسیاستدان امیتابھ بچن 80برس کے ہوگئے۔
ان کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریب آج ان کےٹی وی شو میں منعقد کی جائے گی جس میں ان کی اہلیہ جیا بچن اور بیٹا ابھیشک بچن امیتابھ کی زندگی کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔
امیتابھ بچن عمر کے اس حصے میں بھی فلموںمیں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور متعدد اشتہارات میں بھی جلوہ گر ہوتے ہیں جس سے وہ کروڑوں روپے کما رہے ہیں ۔
امیتابھ بچن 11؍ اکتوبر 1942ء کو الہ آباد کے ایک شاعر ہری ونش رائے کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ تیجی بچن لائل پور (فیصل آباد) کی ایک پنجابی سکھ کھتری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
امیتابھ نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز 1969ء میں خواجہ احمد عباس کی ڈائریکشن میں بننے والی فل سات ہندوستانی سے کیا۔ دوسرے نئے اداکاروں کی طرح امیتابھ کی یہ پہلی فلم بھی بری طرح فلاپ ہوئی۔
1971ء میں راجیش کھنہ کے بالمقابل فلم آنند میں انہوں نے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کے پوسٹر میں امیتابھ بچن کی تصویر ایک کونے میں لگائی گئی کیونکہ انہیں ایک بی کلاس اداکار تصور کیا جاتا تھا۔
1972ء میں معروف کامیڈین محمود نے امیتابھ کو اپنی فلم بمبئی ٹو گوا میں اداکاری کا موقع دیا اس فلم نے باکس آفس پر ایک کروڑ سے زائد کا بزنس کیا۔
فلم کی کامیابی سے امیتابھ کو باقاعدہ طور پر مرکزی کردار کے لئے آفرز آنا شروع ہو گئیں اور یوں بھارتی فلم انڈسٹری کو نیا ہیرو مل گیا۔
امیتابھ کا یہ فلمی سفر آج تک جاری ہے۔ کانگریس لیڈر راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی امیتابھ کے سب سے قریبی دوست تھے۔
راجیو گاندھی سے شادی سے قبل 13 جنوری 1968کو سونیا گاندھی جب اٹلی سے بھارت آئیں تو امیتابھ انہیں دہلی ہوائی اڈے سے لینے گئے سونیا 48دن امیتابھ کے گھر پر مہمان بن کر رہیں جہاں اندرا گاندھی کی خواہش کے مطابق انہوں نے ہندو رسم و رواج اور بھارتی معاشرے کے بارے آگاہی حاصل کی۔
1984میں امیتابھ نے اترپردیش سے لوک سبھا کی سیٹ پر 68فیصد سے بھی زائد ووٹ حاصل کئے جو بھارتی انتخابات کی تاریخ کا ایک منفرد ریکارڈ ہے اور اسے آج تک کوئی بھی نہیں توڑ سکا۔
ان کی شادی 1973میں اداکار جیا بہادری سے ہوئی۔ ان کے صاحبزادے ابھیشک بچن ایک نامور فلم اسٹار ہے جب کہ بیٹی شویتا ایک مصنف اور صحافی ہے۔
امیتابھ کی کارکردگی کے اعتراف کے طور پر انہیں پدما شری، پدما بھوشن، لیجنڈآف آنر، پدما وبوشن اور دادا صاحب پھالیکے ایوارڈز سے نوازہ گیا۔ 2002میں انہوں نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی۔









