شمالی وزیرستان (نیوز ڈیسک )شمالی وزیرستان کے علاقے میرالی بازار میں مسلح ملزمان نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جانب سے جنرل کونسل کی نشست پر نامزد مصور داور کو فائرنگ کرکے ق ت ل کردیا گیا۔
نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل سوار مسلح حملہ آوروں نے اے این پی کے امید وار کو ان کے دفتر کے باہر ق ت ل کیا اور فرار ہوگئے۔پولیس کی جانب سے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول کی میت ورثا کے حوالے کردی گئی ہے، مصور داور کے چچا ملک صالح کو بھی متعدد بار ق ت ل کرنے کی کوشش کی گئی۔

مقتول حیدر خیل کے علاقے سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے جبکہ سماجی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے وزیرستان کی جوان نسل کے لیے بھی کام کیے۔اے این پی کے صوبائی صدر ایمل والی خان نے ق ت ل کی مذمت کرتے ہوئے پارٹی کے کارکنان کو ہدایت دی ہے
کہ واقعے خلاف صوبے کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کریں۔پشاور سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ امن و امان کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور دن دیہاڑے جوانوں کو ق ت ل کیا جارہا ہے۔علاوہ ازیں نیشنل ڈیموکریکٹ موومنٹ کے سربراہ اور ایم این اے محسن داور نے بھی اے این پی کے امیدوار کے ق ت ل کی مذمت کرتے ہوئے شکایت کی ہے
کہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود بھی نوجوانوں کو ق ت ل کیا جارہا ہے۔دریں اثنا، گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے 2 لاشیں برآمد ہوئیں جن کے سر قلم کیے گئے تھے۔پولیس کی جانب سے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وچہ خورہ کے گرڈ اسٹیشن کے قریب سے 25 سالہ مرزا خان محسود کی لاش برآمد ہوئی ہے۔علاوہ ازیں، برمیل تحصیل کے علاقے کلوشا لگاد سے گولیوں سے چھنی لاش برآمد ہوئی ہے جس کا سر بھی قلم کردیا ہے، مقتول کی شناخت کالا خان کے نام سے کی گئی ہے۔








