کراچی: جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس طارق کلیم کو جامعہ کراچی کے ملازمین نے زبردستی دفتر سےباہر نکال دیا بتایا جاتا ہے کہ ڈائریکٹر فنانس طارق کلیم نے اپنی مدت ختم ہونے کے بعد سیکریٹری بورڈز و جامعات مرید راہموں کے زبانی احکامات پر ڈائریکٹر فنانس کا دفتر کھلوا کر کے کام شروع کردیا تاہم جامعہ کراچی کے افسران اور ملازمین بڑی تعداد میں دفتر پہنچ گئےاور طارق کلیم کو دفتر سے زبردستی باہر نکال دیا اور ان کے خلاف نعرے لگائے ملازمین کا کہنا تھا کہ جب ڈی ایف کی مدت 6اکتوبر کو ختم ہوچکی ہے اور وزیر اعلی سندھ نے ان کی مدت میں توسیع بھی نہیں کی ہے اور نئی بھرتیوں کا اشتہار بھی آچکا ہے تو بغیر نوٹیفکیشن کے طارق کلیم کیسے کام کرسکتے ہیں۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ سیکریٹری بورڈ اپنے کلاس فیلو کی دوستی نبھانے کے چکر میں اس لیے وہ زبردستی ان کو ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا اس سے قبل شہید بینظیر چیئر پر ایسے شخص کو سربراہ لگایا گیا جو پی ایچ ڈی بھی نہیں اور جس کا ایک تحقیقی مضمون بھی کہیں نہیں شائع نہیں ہوا اسی طرح درجنوں بھرتیاں ہوئیں مگر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔
مدت پوری، دفتر کیوں آئے، ملازمین نے طارق کلیم کو نکال دیا








