اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیب کی جانب سے آصف زرداری کے کرپشن کیسز سے مشکوک انداز سے نمٹنے کا معاملہ تحقیق کیلئے ایک بہترین کیس ہے کہ کس طرح نیب اور احتساب کے نظام نے نظامِ فوجداری کیساتھ کھیل کھیلا۔ جمعرات کو نیب کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیورو کی درخواست قبول کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن اور سابق صدر آصف زرداری کیخلاف کرپشن کے مختلف ریفرنسز میں چار اپیلیں واپس لینے کی منظوری دی۔ اپنی درخواست میں نیب نے موقف اختیار کیا کہ زرداری کیخلاف ریفرنسز میں ریکارڈ پر صرف فوٹوکاپیاں موجود ہیں اور مزید مقدمہ بازی بیکار کی مشق ثابت ہوگی.
دستیاب دستاویزی شواہد قانون کے مطابق نہیں ہیں، لہٰذا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے زرداری کیخلاف اپیلیں واپس لینے کی منظوری دی جائے۔
آصف زرداری کو اے آر وائی گولڈ، ایس جی ایس، کوٹیکنا، یوروس ٹریکٹرز اور پولو گراؤنڈ ریفرنس کیس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کے دور مین بری کیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ سابق صدر کیخلاف کرپشن کے حوالے سے اصل دستاویزی ثبوت دستیاب نہیں۔
اگرچہ نیب نے احتساب عدالتوں سے بریت کیخلاف اپیلیں دائر کی تھیں لیکن اس بات کی انکوائری نہیں کی گئی کہ دستاویزی ثبوت کیسے غائب ہوئے۔ کسی پر ذمہ داری عائد کی گئی اور نہ کسی کو دستاویزات کے غائب ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا، یہی بات زرداری کی بریت کی اصل وجہ بنی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیب کے کچھ افسران کی رائے تھی کہ اصل ریکارڈ عدالت سے غائب ہوا لیکن بیورو کی سطح پر معاملے کی تحقیقات ہوئیں اور نہ متعلقہ عدالت یا ہائی کورٹ سے تحقیقات کیلئے درخواست کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے دور میں جب آصف زرداری صدر تھے، نیب نے اپنے نرم رویے (فرینڈلی پراسیکوشن) سے ایس جی ایس، کوٹیکنا، اے آر وائی گولڈ کیسز میں تمام شریک ملزمان کو بری کرا دیا۔
2011ء میں دی نیوز نے اس منفرد اسکینڈل کا بھانڈا پھوڑا تھا جس مین دو مختلف احتساب عدالتوں کے ججوں کی جانب سے ایس جی ایس، کوٹیکنا اور اے آر وائی گولڈ کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس میں دونوں فیصلوں میں یکسانیت تھی۔ تاہم، اس معاملے کو بھی نظرانداز کر دیا گیا اور کسی کو بھی اس اسکینڈل پر سزا نہیں دی گئی۔ یہ معاملہ نہ صرف احتساب عدالتوں کے ججوں کے سنگین مس کنڈکٹ کا معاملہ ہے بلکہ اس میں مشکوک انداز سے با اثر ملزم کے حق میں فیصلہ سنایا گیا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کرائی جانے والی انکوائری میں مس کنڈکٹ ثابت ہونے کے باوجود متعلقہ احتساب ججوں کو مکمل پنشن سہولتوں کے ساتھ ریٹائر ہونے دیا گیا جبکہ متنازع انداز سے جن کیسز کا فیصلہ سنایا گیا تھا ان کی دوبارہ سماعت نہیں ہوئی اور نیب اور اس کے افسران کیخلاف اس کیس میں متنازع رویہ اختیار کرنے پر کوئی انکوائری نہیں کرائی گئی۔ دی نیوز کی خبر پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے انکوائری کرائی جس میں ثابت ہوا کہ احتساب عدالتوں کے فیصلوں میں غلطی ہوئی ہے۔
احتساب عدالت راولپنڈی کی جانب سے 2011ء میں کوٹیکنا کیس کا فیصلہ ایس جی ایس کیس کے فیصلے کی ہو بہو نقل تھا جو ایک مختلف احتساب عدالت نے سنایا تھا۔ نہ صرف دونوں فیصلوں کا اختتام حیران کن انداز سے یکساں تھا بلکہ کئی الفاظ اور اصطلاحات بھی ایک جیسی استعمال کی گئی تھیں، حتیٰ کہ پیرا گراف بھی ایک جیسے تھے۔ تعلیم کے شعبے میں اس طرح کی دستاویز کو علمی سرقہ کہا جاتا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے دی نیوز میں خبر شائع ہونے کے بعد انکوائری کرائی گئی لیکن احتساب عدالت کے فیصلہ تحریر کرنے والے دونوں ججز ریٹائر ہوگئے اور ممکنہ جرمانے سے بچ گئے۔ یہ متنازع فیصلے کالعدم بھی قرار نہیں دیے گئے۔ نیب بھی ان فیصلوں کیخلاف اپیل میں نہیں گیا۔ ایس جی ایس کیس کا فیصلہ 30؍ جولائی جبکہ کوٹیکنا کیس کا فیصلہ 16؍ ستمبر 2011ء کو سنایا گیا۔
اے آر وائی اور ایس جی ایس کیس میں عجیب خامیاں بھی تھیں جن میں سب سے اہم سابق سیکریٹری فنانس اور اس وقت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو پراسیکوشن گواہ (پی ڈبلیو) بنا کر پیش ایس جی ایس کیس میں پیش کیا گیا جبکہ اسی شخص کو اسی عدالت نے اے آر وائی گولڈ کیس میں اشتہاری قرار دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرپشن کے کچھ کیسز کو حکومت پاکستان نے سوئس عدالتوں میں بھی ختم کرایا۔









