بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایف اے ٹی ایف کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے ٹیم ورک کیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کیلئے ایف اے ٹی ایف میں کامیابی شاندار ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے نہ صرف مقامی سطح پر کچھ ناممکن کاموں کی تکمیل میں کامیابی ملی بلکہ اسلام آباد کیخلاف نئی دہلی جیسے دارالحکومتوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے میں بھی مدد ملی۔

سرکاری ذرائع سے پس پردہ بات چیت سے معلوم ہوا ہے کہ فوج کے ملٹری آپریشنز (ایم او) ڈائریکٹوریٹ نے متعلقہ صوبائی اور وفاقی حکام کے ساتھ مل کر پاکستان کیلئے یہ کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کو پہلے گرے لسٹ سے بھی نیچے بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا لیکن سخت محنت کے بعد یہ ہوا کہ ایف اے ٹی ایف کے منی لانڈرنگ فریم ورک میں برطانیہ کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جس نے ’’یہ کرو‘‘ اور ’’وہ نہ کرو‘‘ کی ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

دہشت گردی کی مالی معاونت کے ڈومین میں پاکستان نے کامیابی سے وہ تمام اہداف مکمل کیے جو خصوصی طور پر پاکستان کیلئے مقرر کیے گئے تھے۔

اکتوبر 2019ء سے قبل، صورتحال واقعی خراب تھی کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو 85؍ تجاویز پیش کی تھیں ان میں سے کوئی بھی پوری نہیں تھی، قانونی معاملات میں 40؍ میں سے صرف 10؍ تجاویز پر عمل ہوا جبکہ 2018ء میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے پیش کردہ 27؍ میں سے صرف 5؍ تجاویز پر عمل ہو پایا۔

اس حوالے سے بمشکل ہی کوئی منظم حکمت عملی موجود تھی جس کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے معاملات دیکھنے والے 29؍ وفاقی اور صوبائی اداروں بشمول وزارتوں، محکموں، اداروں وغیرہ کے درمیان شاید ہی کوئی رابطہ کاری رہی ہو۔

یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کر رہی تھی اور سر پر بلیک لسٹ ہونے کا خطرہ منڈلا رہا تھا بلکہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی جیسے ادارے بھی اپنی فنڈنگ کو ایف اے ٹی ایف کے معیارات پر عمل کے ساتھ مشروط کر رہے تھے۔

2019ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ مشاورت کے بعد نیشنل ایف اے ٹی ایف کو آرڈی نیشن کمیٹی قائم کی جس میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) اس کمیٹی کے رکن تھے۔

اس کے بعد وزارت خارجہ، داخلہ، خزانہ، رابطہ کاری، مذہبی امور، قانون و انصاف، اقلیتی امور اور ریگولیٹرز جیسا کہ ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ، نیکٹا، اسٹیٹ بینک، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، نیب، ایف آئی اے، اے این ایف، ایف سی اور انٹیلی جنس و سیکورٹی ایجنسیوں کی مشاورت کے ساتھ جی ایچ او کا ایم او ڈائریکٹوریٹ ہی قومی حکمت عملی اور منصوبہ جات کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد کے معاملے میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔

ان تمام اداروں کو ملا کر کامیابی کے ساتھ قلیل وقت میں اہداف مکمل کیے گئے۔ آئی ایس آئی کے ذمہ کالعدم جماعتوں سے نمٹنے کا پیچیدہ کام لگایا گیا اور ساتھ ہی دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں کو کام دیا گیا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے حصول کیلئے ضروری قانون سازی کریں۔

ایم او ڈائریکٹوریٹ نے 11؍ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جنہوں نے پہلے حکمت عملی مرتب کی اور اس کے بعد ماہانہ بنیادوں پر اہداف کے حصول کو یقینی بنایا۔ ان تمام ورکنگ گروپس میں ایم او ڈائریکٹوریٹ کے حکام کو بحیثیت کو آرڈینیٹر مقرر کیا گیا تھا تاکہ اہداف کی تکمیل میں ہونے والی تاخیر کی روک تھام ہو سکے اور موثر ٹیم ورک میں کام ہو سکے۔

مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے 200؍ افسران اس قومی سرگرمی کا حصہ رہے۔ صرف 8؍ ماہ میں وفاقی سطح پر 14؍ قوانین منظور ہوئے، 22؍ متعلقہ قواعد اور ضوابط تشکیل دیے گئے اور 31؍ احکامات اور ایس او پیز جاری کیے گئے۔

ان تمام اقدامات کے بعد، اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور کومبیٹنگ فنانسنگ آف ٹیرر ازم (سی ایف ٹی) ڈائریکٹوریٹس اور انٹیلی جنس کو آپریشن سیل وزارتوں اور صوبائی محکموں میں قائم کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2020ء کے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم اہم ترین تھیں کیونکہ ان میں ریئل اسٹیٹ، جوئیلرز، وکلاء وغیرہ کو بھی شامل کیا گیا اور منی لانڈرنگ کے جرائم کو قابل دست درازی بنایا گیا جبکہ پاکستان پوسٹ کی فنانس سروسز کو علیحدہ کیا گیا۔

عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے پاکستان نے مختلف اقدامات کے حوالے سے پابندیوں کے نظام (سینکشن رجیم) کو مضبوط کیا۔ اے ایم ایل اور سی ایف ٹی کے اقدامات کو ناقابل واپسی بنانے کیلئے پاکستان نے نیشنل ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ قائم کیا۔

2020ء کے آخر تک سخت قانونی اقدامات کرتے ہوئے کو آرڈینیشن کمیٹی کی توجہ تبدیل کرتے ہوئے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی سے جڑے سپروائزری پلان پر مرکوز کی گئی جو اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے جاری کردہ تھے، اب ایم ایل اے کی درخواستوں پر عملدرآمد کا دورانیہ 11؍ ماہ سے کم ہو کر ایک ماہ سے بھی کم رہ گیا، 100؍ فیصد وقف، ٹرسٹ اور کو آپریٹیوز کا جائزہ لیا گیا تاکہ بینیفشل اونر شپ کی معلومات سامنے آ سکے، اور ایسے اداروں پر 2.3؍ ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے جو تعمیل نہیں کر رہے تھے۔

صوبائی محکمہ داخلہ نے اپنے متعلقہ فورتھ شیڈول کو اپ ڈیٹ کیا جبکہ 1400؍ ٹیرر فنانسنگ مقدمات درج کیے گئے۔ مقامی اہداف کو پورا کرنے کے علاوہ، مختلف دوستانہ، غیر جانبدار اور دشمن ممالک کیلئے ایک جامع آؤٹ ریچ پلان تیار اور نافذ کیا گیا۔

اسلام آباد میں غیر ملکی سفیروں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ، وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ کے افسران کیساتھ بین الاقوامی دارالحکومتوں میں ملاقاتیں اور دورے اس پلان کا حصہ تھے۔

ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کرنے کیلئے متعین پاکستانی ٹیموں نے بھی آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے حکام کیساتھ مذاکرات بھی کیے تاکہ فنڈنگ ​​کے مختلف معیارات کو پورا کیا جا سکے۔ مختلف سرکاری اداروں کے بے مثال ٹیم ورک کے نتیجے میں پاکستان کی کوششوں کے بارے میں بین الاقوامی تاثر مکمل تبدیل ہوا۔

نتیجتاً، رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے ایکشن پلان مکمل کیا اور اگست میں ایف اے ٹی ایف کے آن سائٹ دورے کیلئے اپنی کوششوں کو منوایا۔ ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کا آن سائٹ دورہ 29 اگست سے 2 ستمبر تک ہوا جس میں یہ ٹیم اے ایم ایل اور سی ایف ٹی کوششوں کے معاملے میں پاکستان کی پیش رفت سے مطمئن نظر آئی جس کے نتیجے میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔

اگرچہ یہ سب کچھ مختلف سرکاری اداروں اور محکموں کے درمیان ٹیم ورک کے ذریعے ممکن ہو پایا، ایچ بی ایل کے سلطان الانہ نے معروف بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم کی خدمات کے حصول میں اہم کردار ادا کیا جس نے نیشنل کمیٹی اور اس کی ٹیموں کو ایف اے ٹی ایف کے کام کرنے کے انداز اور توقعات کو سمجھنے اور شرائط کو پورا کرنے میں مدد دی۔