لاہور(نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان نے جمعہ 28؍اکتوبر لاہور تا اسلام آباد ایک اور لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے۔ رواں سال یہ اپنی نوعیت کی پانچویں سرگرمی ہوگی۔ عمران خان حکومت کے دور میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) اسلام آباد کی جانب تین نمایاں ریلیاں نکالیں۔ عمران خان گزشتہ 10؍اپریل کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزارت عظمیٰ سے ہٹائے گئے جس کے بعد عمران خان نے سبکدوشی کے بعد اپنی جگہ لینے والے وزیراعظم شہباز کی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کے خلاف گزشتہ 25؍مارچ کو لانگ مارچ کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن پولیس کی جانب سے سخت اقدامات کے باعث وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ واضح رہے کہ سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی قیادت میں کامیاب لانگ مارچ کیا تھا۔ اکتوبر2021ء کے اوائل میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے کارکنوں اور حامیوں نے جی ٹی روڈ کے ذریعہ اسلام آباد جاتے ہوئے راستے میں پڑنے والے قصبوں اور شہروں میں بڑا ہنگامہ اور تشدد کیا جس میں کچھ پولیس اہلکار جاں بحق بھی ہوئے۔ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں 27؍اکتوبر 1996ء کو جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے نتیجے میں بے نظیر حکومت کو رخصت ہونا پڑا۔
لانگ مارچ اور اہم واقعات، اکتوبر نمایاں رہا








