بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ارشد شریف کے نیروبی فلیٹ کے آخری لمحات کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب

نیروبی (نیوز ڈیسک) انویسٹی گیٹرز نے بھائیوں وقار احمد اور خرم احمد سے کہا ہے کہ وہ نیروبی میں ارشد شریف کے قیام والے فلیٹ اور نیروبی سے باہر اس ٹریننگ سائٹ، جہاں ارشد کو آخری بار زندہ دیکھا گیا تھا، کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کریں۔ جیو نیوز نے جو پیپر دیکھا ہے، اس میں پتہ چلا ہے کہ پاکستانی انویسٹی گیشن ٹیم ایف آئی اے ڈائریکٹر اطہر واحد اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد حامد نے دونوں بھائیوں سے قتل کے بارے میں انٹرویو کرنے کے بعد انویسٹی گیشن میں مزید مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی انویسٹی گیٹرز کی جانب سے بھیجا جانے والا خط اب پاکستانی سفارت کاروں اور کینیا کے متعدد ڈپارٹمنٹس کے پاس بھی دستیاب ہے۔ پاکستان اور کینیا کے انویسٹی گیٹرز نے دونوں بھائیوں سے ملاقات کی اور ان سے ضروری معلومات فراہم کرنے کیلئے کہا ہے۔ 1- اس پینٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج، جہاں ارشد شریف آپ کے مہمان کے طور پر دو ماہ تین دن تک رہا۔ 2- ارشد شریف کے قتل کےموقع پر اموڈمپ میں آپ کی ٹریننگ سائٹ پر موجود انسٹرکٹرز اور ٹریٹرز کے نام کی فہرست اور کونیکٹ تفصیلات۔ 3- جن آرگنائزیشنز کے ساتھ انسٹرکٹرز اور ٹرینرز کا تعلق ہے ان کی تفصیلات۔ 4- آپ کی ٹریننگ سائٹ پر آپ کے تمام سٹاف ملازمین کے نام کی فہرست اور کونیکٹ تفصیلات۔ 5- آپ کی پرمسز میں قیام کے دوران ارشد شریف نے جن انفرادیوں سے ملاقات کی، ان کی فہرست۔ 6- ارشد شریف کو سپانسر انوی ٹیشن لیٹر دینے کیلئے آپ کو کہنے والے انفرادیوں کے نام اور کونیکٹ تفصیلات۔ 7- اس بارے میں وضاحت کریں کہ ارشد شریف کا آئی پیڈ اور فونز، جو آخری بار آپ کی پرمسز میں موجود تھے، کہاں ہیں۔ بدھ کو کینیا کے دارالحکومت میں آمد کے بعد جیو نیوز انویسٹی گیشن ٹیم نے انکشاف کیا کہ ارشد شریف کا کینیا وزٹ ویزا سپانسرڈ تھا اور وہ ویزا آن ارائیول داخل نہیں ہوئے تھے۔ انویسٹی گیٹرز کے لیٹر سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ جیو نیوز کا انکشاف امیگریشن حکام اور انویسٹی گیشن سے واقف سینئر پاکستانی سفارت کاروں کی جانب سے دی گئی معلومات پر مبنی تھا۔ مسٹر شریف کو کینیا کے دورے کیلئے سپانسر لیٹر نیروبی بیسڈ پراپرٹی ڈیولپر وقار احمد نے بھیجا تھا، جو کہ 23 اکتوبر 2022 کی بدقسمت رات کو گاڑی چلانے والے خرم احمد کا بھائی ہے۔ ارشد ویران علاقے میں پولیس کی جانب سے کار پر برسنے والی گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہو گیا تھا۔ وقار اور خرم دونوں سے پاکستان کی انویسٹی گیشن ٹیم ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر واحد اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد حامد نے صحافی کے قتل کے حقائق جاننے کیلئے پوچھ گچھ کی ہے۔ وقار احمد نے انویسٹی گیشن ٹیم کو بتایا کہ میں ارشد شریف سے صرف ایک بار ملا تھا اور وہ بھی ایک ڈنر پر۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے دن میں نے سینئر صحافی کو نیروبی کے باہر اپنے لاج میں کھانے پر مدعو کیا تھا۔ ارشد نے ہمارے لاج پر ہمارے ساتھ کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد ارشد شریف میرے بھائی خرم کے ساتھ کار میں چلا گیا اور نصف گھنٹے بعد گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع ملی۔ دونوں بھائیوں نے پاکستانی انویسٹی گیٹنگ آفیسرز کو بتایا کہ مقتول صحافی نیروبی جانے کا منصوبہ بنا رہا تھا اور اس کیلئے اس نے اپنے ویزے میں بھی توسیع کروائی۔ یہاں کے ایک ذرائع نے یہ شیئر کیا کہ ارشد شریف کا ابتدائی ویزا ایک ماہ کا تھا اور پھر انہوں نے اس میں توسیع کروائی۔ وہ 20 اگست 2022 کو کینیا کے دارالحکومت آئے تھے اور 23 اکتوبر کو فائرنگ میں ہلاک ہو گئے، جس میں خرم احمد معجزانہ طور پر بچ گیا۔ کینیا میں پولیس کے ہاتھوں ارشد شریف کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے واقعے پر پاکستان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور بہت سے لوگ حیران ہیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ وقار اور خرم کے وکیل نے جیو نیوز کو ایک بیان میں بتایا کہ ان کے موکل بے قصور ہیں۔ کینیا کی پولیس نے ایک بیان جاری کیا اور اس شوٹنگ میں غلط شناخت کے معاملے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ہم اب تک بس یہی جانتے ہیں۔ ڈینیل کیراگو نے رپورٹر سے کہا کہ انویسٹی گیشن ابھی جاری ہے اور ہمارے کلائنٹس انویسٹی گیشن میں مکمل طور پر تعاون کر رہے ہیں۔